logo logo
AI Search

غلطی سے بچے کو دودھ پلا دیا تو رضاعت ثابت ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غلطی سے کسی کے بچے کو دودھ پلا دیا تو رضاعت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت بیڈ پر سورہی تھی، اس کے ساتھ دو چھوٹے دودھ پیتے بچے بھی سو رہے تھے، جن میں سے ایک تو اس کا اپنا بیٹا تھا اور دوسرا اس کا اپنا بیٹا نہیں تھا اور اس دوسرے بچے کی عمر تقریبا ایک سال تھی، لائٹ نہیں تھی، اندھیرا تھا کہ اس دوران ایک بچہ رونے لگا، عورت نے سمجھا کہ میرا بچہ ہے، چنانچہ اس نے اسے پکڑ کر اپنا دودھ پلا دیا، دودھ اس کے حلق سے نیچے بھی اترا۔ پھر کچھ دیر بعد بچے کے رونے کی پھر آواز آئی، اب اس نے لائٹ روشن کروائی تو پتا چلا کہ پہلے جس بچے کو دودھ پلایا وہ اس کا اپنا بچہ نہیں تھا بلکہ دوسرا بچہ تھا۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ دوسرا بچہ اب اس کا رضاعی بیٹا بنا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں عورت نے جس بچے کو اس کی تقریبا ایک سال کی عمر میں دودھ پلایا، اگرچہ غلطی سے پلایا، وہ بچہ، اس عورت کا رضاعی بیٹا بن چکا کہ رضاعت ثابت ہونے کے لیے رضاعت کا قصد و ارادہ ہونا ضروری نہیں، بلکہ عورت کا خود پلانا بھی ضروری نہیں حتی کہ اگر کوئی عورت سو رہی ہو اور بچہ ایام رضاعت میں خود اس کا دودھ پی لے تو اس سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں جس عورت نے دوسرے بچے کو دودھ پلایا، یہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن گئی اور اس کا شوہر، جس سے اس کا یہ دودھ تھا، اس بچے کا رضاعی باپ بن گیا اور ان کی ساری اولادیں (خواہ اس سے پہلے پیدا ہوئیں یا بعد، ان میں سے کسی نے اس کے ساتھ دودھ پیا یا نہیں) اس بچے کے رضاعی بھائی، بہن بن گئے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے:

﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ﴾ ترجمہ ٔ کنز الایمان: ”حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں۔“ (سورۃ النساء، پ 04، آیت 23)

صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ہے "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب" ترجمہ: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الشھادات، باب الشھادۃ علی الانساب والرضاع المستفیض، ص 480، بیروت)

در مختار میں ہے "(ويثبت به) ۔۔۔ (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير۔۔۔۔ (أمومية المرضعة للرضيع، و) يثبت (أبوة زوج مرضعة) إذا كان (لبنها منه له) وإلا لا كما سيجيء. (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان" ترجمہ: اور دودھ اگرچہ قلیل مقدار میں پیے جبکہ دودھ کا بچے کے جوف تک منہ یا ناک کے ذریعے پہنچنا معلوم ہو جائے نہ ان کے علاوہ اور راستے سے، تو اس سے دودھ پلانے والی، دودھ پینے والے کی ماں بن جاتی ہے اور پلانے والی کا شوہر اس کا باپ بن جاتا ہے جبکہ عورت کا دودھ اسی سے اترا ہو ورنہ نہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا، پس اس کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہوجائیں گے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ ( الدر المختار مع رد المحتار، ج 04، ص 390تا 393، مطبوعہ کوئٹہ)

المبسوط للسرخسی میں ہے "(قال:) وإذا حلب اللبن من ثدي المرأة ثم ماتت فشربه صبي تثبت به الحرمة لحصول المعنى الموجب للحرمة بهذا اللبن، ولا معتبر بفعلها في الإرضاع، ألا ترى أنها لو كانت نائمة فارتضع من ثديها الصبي تثبت الحرمة" ترجمہ: فرمایا: اور جب عورت کی چھاتی سے دودھ کسی برتن وغیرہ میں نکالا جائے پھر عورت مر جائے پس بچہ اسے پی لے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے کہ اس دودھ سے وہ معنی حاصل ہو گیا جو حرمت ثابت کرنے والا ہے اور دودھ پلانے میں عورت کے فعل کا اعتبار نہیں ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر عورت سو رہی ہو پس اس کی چھاتی سے بچہ دودھ پی لے تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ (المبسوط للسرخسی، باب الرضاع، ج 05، ص 134-135، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے "كذا الصغيرة إذا جاءت إلى الكبيرة وهي نائمة فأخذت ثديها وارتضعت منها بانتا منه" ترجمہ: یونہی چھوٹی بیوی جب بڑی بیوی کے پاس آئے جبکہ وہ سو رہی ہو اور اس کی چھاتی لے کر اس سے دودھ پیے تو دونوں شوہر سے جدا ہو جائیں گی۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الرضاع، ج 01، ص 345، کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس بچہ کی ماں ہو جائے گی اور اس کا شوہر (جس کا یہ دودھ ہے یعنی اُس کی وطی سے بچہ پیدا ہوا جس سے عورت کو دودھ اترا) اس دودھ پینے والے بچہ کا باپ ہو جائے گا اور اس عورت کی تمام اولادیں اس کے بھائی بہن خواہ اسی شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے، اس کے دودھ پینے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی یا ساتھ کی اور عورت کے بھائی، ماموں اور اس کی بہن خالہ۔ يوہيں اس شوہر کی اولادیں اس کے بھائی بہن اور اُس کے بھائی اس کے چچا اور اُس کی بہنیں، اس کی پھوپیاں خواہ شوہر کی یہ اولادیں اسی عورت سے ہوں یا دوسری سے۔ يوہيں ہر ایک کے باپ، ماں اس کے دادا دادی، نانا، نانی۔" (بھار شریعت، ج 02، حصہ 07، ص37-38، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10830

تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1443ھ/03ستمبر 2021ء