logo logo
AI Search

کیا ایک ہی بکری کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک ہی بکری کا دودھ پینے سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر ایک لڑکا اور لڑکی ایام رضاعت میں ایک بکری کا دودھ پی لیں، تو ان کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

حرمت رضاعت عورت کا دودھ پینے سے ہوتی ہے، بکری یا کسی اور جانور کا دودھ پینے سے نہیں ہوتی۔

ہدایہ میں ہے

و إذا شرب صبيان من لبن شاة لم يتعلق به التحريم لأنه لا جزئية بين الآدمي و البهائم و الحرمة باعتبارها

ترجمہ: اور جب دو بچوں نے ایک بکری کا دودھ پی لیا تو اس سے حرمت متعلق نہیں ہو گی، کیونکہ آدمی اور چوپائے کےدرمیان جزئیت نہیں، اور حرمت اس کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ (الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 372، مطبوعہ: لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے رضاع (یعنی دودھ کا رشتہ) عورت کا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے، مرد یا جانور کا دودھ پینے سے ثابت نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 36، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4657
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ / 22 جنوری 2026ء