دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گود لینے والے بچے کے حوالے سے کیا کیا احتیاطیں ہوتی ہیں؟ اور وراثت میں گود لینے والے بچے کے حصے کا کیا حساب ہو گا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بچہ گود لینا شرعی اعتبار سے ایک جائز عمل ہے لیکن گود لینے سے حقیقت نہیں بدلتی اور لے پالک بچہ و بچی بدستور اپنے ماں باپ کی ہی اولاد رہتے ہیں۔ البتہ جب کوئی شخص کسی بچے کو گود لیتا ہے تو یہ سمجھا جاتا بلکہ ایک قسم کا وعدہ اور عہد ہوتا ہے کہ اب اس بچہ کی پرورش، تعلیم و تربیت اور ضروریاتِ زندگی کا انتظام بھی وہی کرے گا۔ لہذا اس اعتبار سے گود لینے والے پر بچہ گود لینے کے بعد یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بچے کی پرورش، تعلیم اور اخلاقی تربیت کا پورا پورااہتمام کرے۔ عموماً گود لیا ہوا بچہ یا بچی چھوٹی عمر سے ہی گھر کا حصہ بن جاتے ہیں؛ لڑکا ہو تو ہمیشہ پالنے والوں کے پاس رہتا ہے، اور لڑکی ہو تو شادی تک وہیں رہتی ہے اور وہی لوگ اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے شرعی حکم یہ ہے کہ اگر لڑکا پالنے والی عورت کا محرم ہو (جیسے سگا بھتیجا یا بھانجا) یا دودھ کا رشتہ قائم ہو، توبلوغت کے بعد بھی اس کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ نامحرم ہو اور دودھ کا رشتہ بھی نہ ہو تو بلوغت کے بعد عورت اور اس لڑکے میں پردہ لازم ہوگا، اور عورت کی بالغ بیٹیوں سے بھی پردہ واجب ہوگا، لہٰذا ایسی صورت میں بلوغت کے بعد عورت پراُس لڑکے کو اپنی پرورش سے الگ کر دینا ضروری ہوگا۔اسی طرح اگر گود لی جانے والی بچی پالنے والے مَرد کی محرمہ ہو (جیسے سگی بھتیجی یا بھانجی) یا دودھ کا رشتہ ہو تو وہ جوان ہونے کے بعد بھی اس کی پرورش میں رہ سکتی ہے، ورنہ جب حدِ شہوت کی عمر (جو کہ نو سال مقرر ہے) کو پہنچ جائے تو اسے اس کےحقیقی والد یا کسی محرم کے سپرد کرنا لازم ہوگا، کیونکہ اس عمر کے بعد اب اُس کا اجنبی مرد کی پرورش میں رہنا کسی طرح جائز نہیں ہوگا۔
یہ تو دیکھ بھال کے حوالے سے کچھ گفتگو تھی۔ مزید گود لینے کے حوالے سے دو باتیں خیال میں رہیں: ایک بات یہ کہ گود لینے والے اپنےآپ کو بطور ماں باپ اس بچےسے منسوب نہیں کرسکتے، البتہ بطورِ سرپرست اس کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ یونہی قانونی دستاویزات مثلاً: شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ میں ولدیت کی جگہ پر اس بچی کے حقیقی باپ ہی کا نام لکھوانا ضروری ہوگا، گود لینے والے کا نام بطورِ والد لکھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
دوسری بات یہ ہے کہ گود لیے گئے بچے یا بچی گود لینے والے کے مَحرَم نہیں بن جاتے، لہذا اگر گود لینے والا یا والی اُس بچے یا بچی کے لیے نامحرم ہوں تو بلوغت کے بعد ان کے درمیان پردہ فرض ہوگا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ البتہ اگر بچہ یا بچی سے دودھ کا رشتہ قائم کرلیا جائے تو پردہ واجب نہیں ہوگا۔ دودھ کا رشتہ قائم کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ اگر بچی گود لینی ہو تو شوہر سے رضاعی رشتہ قائم کیا جائے، مثلاً شوہر کی بیوی، بہن، بھانجی یا بھتیجی اس بچی کو دودھ پلادے۔ اور اگر بچہ گود لینا ہو تو بیوی سے رضاعی رشتہ قائم کیا جائے، مثلاً بیوی خود یا اس کی بہن، بیٹی، بھانجی یا بھتیجی بچے کو دودھ پلادے۔ یاد رہے کہ ڈھائی سال کی عمر ہونے تک دودھ پلانے سے بھی اگرچہ حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، لیکن دو سال کی عمر ہو جانے کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں، لہٰذا رضاعی رشتہ قائم کرنے کے لیے دو سال کی عمر سے پہلے دودھ پلایا جائے، اس کے بعد حرام ہے۔
وراثت کے حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ چونکہ گود لیا ہوا بچہ یا بچی بدستور اپنے حقیقی ماں باپ کی ہی اولاد رہتے، لہذا وہ اپنے حقیقی والدین کے وارث بنیں گے، جس شخص نے اُن کو گود لیا ہے اس کے ترکہ میں ان کا اولاد ہونے کی حیثیت سے حصہ نہیں ہوگا۔ ہاں !اگر اولاد کے علاوہ کسی دوسری حیثیت سے اس بچے یا بچی میں وارث بننے کی صلاحیت ہو تو یہ الگ بات ہے، مثلاً بھتیجے کو گود لیا تو شرعاًبھتیجا بعض صورتوں میں اپنے چچا کا وارث بنتا ہے۔
لے پالک بچہ نامحرم ہو تو بالغ ہوجانے پر عورت اُسے اپنی پرورش سے جُدا کردے گی، چنانچہ فتاوی خلیلیہ میں مفتی خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’ کسی لڑکے یا لڑکی کو متبنی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے غیر کی اولاد تسلیم کرتے ہوئے اپنی اولاد کے قائم مقام بنا لینا اور اپنی اولاد کی طرح اس کی تربیت و پرورش کرنا۔ یہ امر اگر چہ بجائے خود ایک کار ثواب ہے لیکن وہ بچہ شرعاً اس کی اولاد قرار نہ پائے گا اور نہ اس بچے کو وہ حقوق حاصل ہوں گے جو حقیقی اولاد کو ہوتے ہیں۔۔۔(لہذا گود لیا بچہ اگر نامحرم ہو اور اس سے دووھ کا رشتہ بھی قائم نہ ہو) تو وہ بچہ اس(پالنے والی) خاتون کے لئے بھی اجنبی ہے اور اس کی لڑکی کے لئے بھی اور دوسرے اہل خاندان کے لئے بھی۔ وہ تمام احکام جو کسی اجنبی کے لئے ہیں وہ اس بچہ پر بھی عائد ہوں گے۔ خاتون کی بیٹی اسے اپنے بھائی کی طرح سمجھے جیسے اور اجنبیوں کو سمجھتی ہے لیکن وہ اس کا حقیقی بھائی نہیں، یہ اس کی حقیقی بہن نہیں، لہذا تنہائی میں ایک گھر میں نہیں رہ سکتے بلکہ خاتون خواہ دوسرے اعزاء کی موجودگی میں بھی اس پر شرعی پردہ لازم ہے اور بہ حالات موجودہ اس خاتون کو چاہئے کہ وہ اس بچے کو جو کہ اب جوان ہو چکا ہے اپنے سے جُدا کر دے۔ ‘‘ (فتاوی خلیلیہ، جلد2، صفحہ144، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
نوبرس کی عمرکے بعد طلاق یافتہ سگی ماں سے بھی لڑکی لے لی جاتی ہے اور باپ کے پاس رہنے کا حکم ہوتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
’’(والام والجدۃ احق بھا)بالصغیرۃ (حتی تحیض )أی تبلغ (وغیرھما احق بھا حتی تشتھی) وقدر بتسع وبہ یفتی (وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذٰلک) وبہ یفتی لکثرۃ الفساد‘‘
ترجمہ: ماں اور دادی(یا نانی) لڑکی کی پرورش کی زیادہ حق دار ہیں، یہاں تک کہ وہ حایضہ ہوجائے یعنی بالغہ ہو جائے۔ اور ان کے علاوہ پرورش کرنے والے زیادہ حق دار ہیں یہاں تک کہ وہ قابل شہوت نہ ہو جائے۔ اور اس کی حد نو سال مقرر کی گئی ہے اور اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ماں اور دادی کے بارے میں بھی یہی حکم ہے، اور فساد کی کثرت کی وجہ سے اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (تنویر الابصارمع درمختار، جلد5، صفحہ274، 275، دار المعرفۃ، بیروت)
لڑکی کا نو برس کی عمر کے بعد اجنبی کی پرورش میں رہنا کسی طرح جائز نہیں، چنانچہ فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’(لڑکی جب)بالغہ ہوئی یا قریب بلوغ پہنچی جب تک شادی نہ ہو، ضرور اس کو باپ کے پاس رہنا چاہئے یہاں تک کہ نوبرس کی عمرکے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی، نہ کہ اجنبی جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی نہیں، بیٹی کرکے پالنے سے بیٹی نہیں ہوجاتی، اس نے جو خرچ کیا اپنی اولاد بنا کر کیا نہ کہ بطور قرض، لہذا(واپسی کے وقت پالنے والااس پرخرچے کی)واپسی کابھی مستحق نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد13، صفحہ412، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی رضویہ ہی میں ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ’’حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر (لڑکی)میں نو برس کی عمر تک رہتا ہے اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی جو عصوبت میں مقدم ہے یہاں بھی مقدم ہے بشرطیکہ فاسق بدچلن نہ ہو اس سے صغیر پر اندیشہ نہ ہو اور دختر کے لئے اس کا محرم ہونا بھی شرط۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد13، صفحہ402، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
لےپالک بچوں کو ان کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے سے متعلق، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ پاک ہے:
’’ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ ‘‘
ترجمہ کنز العرفان: انہیں ان کے حقیقی باپ کا کہہ کر پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں۔ (القرآن الکریم، پارہ21، سورۃالاحزاب، آیت: 5)
بچہ بچی گود لینے سے ان کیلئے حقیقی اولاد والے احکام میں سے کسی بھی حکم کا ثبوت نہیں ہوگا، چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
’’فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الاية ردّ لما كانت العرب تقول۔۔۔يحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب‘‘
ترجمہ: لہذا منہ بولابیٹا بنانے سے(حقیقی) بیٹے کے احکام میں سے کسی بھی حکم کا ثبوت نہیں ہوگا، جیسے میراث، نکاح کی حرمت اور دیگر احکام۔ اور اس آیت میں ان باتوں کی تردید ہے جو عرب کہا کرتے تھے۔۔۔ کہ جو نسب سے حرام ہوتا ہے وہ منہ بولا بیٹا بنانے سے حرام ہوجاتا ہے۔ (التفسیر المظھری، جلد7، صفحہ284، مطبوعہ پاکستان)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’یعنی ممانعت کے بعد اگر تم دیدہ دانستہ لے پالکوں کو ان کے مربی(پالنے والے)کا بیٹا کہو گے تو گناہگار ہوگے۔‘‘ (تفسیر نور العرفان، صفحہ503، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
گود لیا ہوا بچہ ، بچی اگر پالنے والی عورت، یا مرد کیلئے نامحرم ہوں تو اُن کے درمیان پردہ کرنا بھی لازم ہوگا، چنانچہ مذکورہ آیت کے تحت تفسير صراط الجنان میں ہے: ’’بچہ یا بچی گود میں لینا جائز ہے لیکن جب وہ ا س عمر تک پہنچ جائیں جس میں ان پر نامحرم مرد یا عورت سے پردہ کرنا لازم ہو جاتا ہے تو اس وقت بچے پر پالنے والی عورت سے اور بچی پر پالنے والے مرد سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا کیونکہ وہ اس بچے کے حقیقی یا رضاعی ماں باپ نہیں اِس لئے وہ اُ س بچے اوربچی کے حق میں محرم نہیں ، لہٰذا اگر بچہ گود میں لیا جائے تو عورت اسے اپنا یا اپنی بہن کا دودھ پلا دے اور بچی گود میں لی جائے تو مرد اپنی کسی محرم عورت کا دودھ اسے پلوا دے، اس صورت میں ان کے درمیان رضاعی رشتہ قائم ہوجائے گا اور محرم ہو جانے کی وجہ سے پردے کی وہ پابندیاں نہ رہیں گی جو نامحرم سے پردہ کرنے کی ہیں، البتہ یہاں مزید دو باتیں ذہن نشین ر ہیں،
پہلی یہ کہ دودھ بچے کی عمر دوسال ہونے سے پہلے پلایا جائے اور اگر دو سال سے لے کر ڈھائی سال کے درمیان دود ھ پلایا تو بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی لیکن اس عمر میں دودھ پلانا، ناجائز ہے اورڈھائی سال عمر ہو جانے کے بعد پلایا تو رضاعت ثابت نہ ہو گی۔
دوسری یہ کہ عورت نے بچے یا بچی کو اپنی بہن کا دودھ پلوایا تو وہ اس کی رضاعی خالہ تو بن جائے گی لیکن اس کا شوہر بچی کا محرم نہ بنے گا، لہٰذا بہتر صورت وہ ہے جو اوپر ذکر کی کہ بچے کو عورت کی محرم رشتہ دار کا دودھ پلوا لیا جائے اور بچی کو شوہر کی محرم رشتہ دار کا تاکہ پرورش کرنے والے پردے کے مسائل میں مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ البتہ اِن مسائل میں کہیں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے، لہٰذا ایسا کوئی معاملہ ہو تو کسی قابل مفتی کو پوری تفصیل بتا کر عمل کیا جائے‘‘۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد7، صفحہ563، 562، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ’’پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘نامی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’(گود لئے ہوئےبچہ یا بچی سے) دودھ کا رشتہ قائم کرنے میں یہ بات مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ اگر بچی گود لینا ہو تو شوہر سے رضاعت کا رشتہ قائم کیا جائے مثلاً شوہر کی بہن یا بھانجی یا بھتیجی اس بچی کو اپنا دودھ پلادے اور اگر بچہ گود لینا ہو تو بیوی اس سے اپنا رضاعت کا رشتہ قائم کرے مثلاً بیوی خود یا بیوی کی بہن یا بیٹی یا بھانجی یا بھتیجی اس بچے کو اپنا دودھ پلادے ۔ اس طرح دونوں صورت میں بیوی اور شوہر دونوں کے لئے پردے کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔ ‘‘ (پردے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ71-70، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بچہ یا بچی کے گود لینے والے کے وارث نہ ہونے کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں:
”پسرخواندہ نہ چنیں کس راپسرمی شود نہ خود بے علاقہ ازپدر ان الحقائق لاتغیّر، شرعاً وارث پدر ست نہ اینکس دیگر۔“
منہ بولا بیٹا نہ ایسے شخص کا بیٹا ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق کیونکہ حقیقتوں میں تغیر نہیں ہوتا، شرعی طور پر وہ اپنے باپ کا وارث ہے نہ کہ اس دوسرے شخص کا جس نے اس کو منہ بولا بیٹا بنایا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد26، صفحہ178، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی رضویہ میں آپ علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’متبنی(گود لیا ہوا بچہ) یا سوتیلا بیٹا ہونا شرعاً ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیدا کرتا۔ اور اگریہ مراد ہے کہ اس صورت میں زید(لے پالک)اپنی حقیقی والدہ یا والد کے ترکہ سے حصہ پائے گا یا نہیں، تو جواب یہ ہے کہ بیشک پائے گا کسی کا اسے اپنا بیٹا بنالینا اپنے حقیقی والدین کے بیٹے ہونے سے خارج نہیں کرتا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد26، صفحہ84، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں: ” تبَنی کرنا یعنی لڑکا گود لینا شرعاً منع نہیں، مگر وہ لڑکا اس کا لڑکا نہ ہوگا بلکہ اپنے باپ ہی کا کہلائے گا اور وہ اپنے باپ کا ترکہ پائے گا۔گود لینے والے کا نہ یہ بیٹا ہے نہ اِس حیثیت سے اس کا وارث، ہاں اگر وارث ہونے کی بھی اس میں حیثیت موجود ہے مثلاً بھتیجا کو گود لیا تو یہ وارث ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اور مانع نہ ہو۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد3، صفحہ365، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-973
تاریخ اجراء: 09 جمادی الاولی1447ھ/01 نومبر 2025ء