ایک عورت دوسری عورت کا دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہوجائیگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بالغ ہونے کے بعد عورت کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر ایک بالغہ خاتون، دوسری بالغہ خاتون کا دودھ پیے، تو کیا ان دونوں کی اولاد کا نکاح جائز ہے؟
جواب
بالغہ عورت کا دوسری عورت کا دودھ پینا بھی ناجائز و گناہ ہے، اور اسے پلانا بھی ناجائز و گناہ ہے، لیکن اس سے ان کے درمیان رضاعت کا رشتہ قائم نہیں ہوا، کیونکہ حرمت رضاعت صرف ڈھائی سال کے اندر دودھ پلانے سے ثابت ہوتی ہے، اس کے بعد نہیں، لہذا حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، تو دونوں کی اولاد کا نکاح ہو سکتا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
و اذا مضت مدۃ الرضاع لم یتعلق بالرضاع تحریم
ترجمہ: اور جب رضاعت کی مدت گزر جائے، تو رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 343، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ڈھائی برس کی عمر کے بعد دودھ پینے سے حرمت رضاعت نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 288، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: نکاح حرام ہونے کے لئے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 7، صفحہ 36، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4778
تاریخ اجراء: 07رمضان المبارک1447ھ / 25 فروری 2026ء