بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں نے 8 ماہ کی عمر میں ایک عورت کا دودھ پیا تھا، اب پوچھنا یہ ہے کہ میرا چھوٹا یا بڑا بھائی اس عورت کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے، جبکہ ان میں سے کسی نے بھی اس عورت کا دودھ نہیں پیا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے چھوٹے یا بڑے بھائی کا اُس خاتون کی بیٹی کے ساتھ نکاح شرعاً درست ہے، جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ آپ نے جب مدتِ رضاعت میں اس عورت کا دودھ پیا، تو وہ آپ کی رضاعی ماں بن گئی اور اس کی تمام اولاد آپ کے رضاعی بہن بھائی ہوئے، اب آپ کا نکاح تو اس عورت کی کسی بھی بیٹی کے ساتھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ سگے بہن بھائیوں کی طرح رضاعی بہن بھائیوں کا نکاح بھی حرامِ قطعی ہے، لیکن آپ کے دیگر بہن بھائیوں کا اس عورت کی اولاد سے نکاح درست ہے، کیونکہ ایک بھائی کے دودھ پینے کی وجہ سے دیگر بہن بھائیوں کا، دودھ پلانے والی اور اس کی اولاد کے ساتھ رشتہ رضاعت ثابت نہیں ہوتا۔
اللہ تبارک و تعالی قرآن کریم میں حرام عورتوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ان عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں کہ تم انہیں اپنے مالوں کے ذریعے نکاح کرنے کو تلاش کرو، نہ کہ زنا کے لئے۔ (پ 5، س النساء، آیت 24)
تنویر الابصار میں ہے: ’’و تحل اخت اخیہ رضاعا‘‘ ترجمہ: اور اپنے حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن حلال ہے۔
درِ مختار میں اس عبارت کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے: ’’یصح اتصالہ بالمضاف کان یکون لہ اخ نسبی لہ اخت رضاعیۃ و بالمضاف الیہ کان یکون لاخیہ رضاعا اخت نسبا و بھما و ھو ظاھر‘‘ترجمہ: "رضاعا" کا تعلق مضاف کے ساتھ بھی درست ہے، جیسے حقیقی بھائی کی رضاعی بہن ہو (تو اس سے نکاح حلال ہے) اور مضاف الیہ کے ساتھ بھی، جیسے رضاعی بھائی کی حقیقی بہن ہو (تو اس سے بھی نکاح حلال ہے) اور دونوں کے ساتھ بھی درست ہے اور یہ صورت بالکل واضح ہے (یعنی رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے بھی نکاح حلال ہے)۔ (تنویر الابصار مع در مختار، ج 3، ص 217، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائز ہے۔ (بہار شریعت ج 2، ص 39، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7467
تاریخ اجراء: 21 ذو الحجۃ الحرام 1445ھ / 28 جون 2024ء