شرکت پر خریدی گئی کار کا کرایہ تقسیم کرنے کی ناجائز صورت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مشترکہ گاڑی کو کرائے پر دینے کی ایک ناجائز صورت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو افراد مل کر ایک کار خرید رہے ہیں جس میں دونوں کا حصہ برابر، برابر ہوگا، اسے بطور ٹیکسی استعمال کیا جائے گا، اور کسی فنکشن وغیرہ کے لیے رینٹ پر چلایا جائے گا، اور یہ کام ان شرکاء میں سے ہی ایک شریک کرے گا، دوسرا کوئی کام نہیں کرے گا، اس سے حاصل ہونے والے کرائے کی تقسیم کاری وہ اس طرح کریں گے کہ اولا ایک مخصوص مقدار مثلا 2500 روپے، چلانے والا لے گا اور بقیہ جتنی رقم بچے گی، وہ دونوں میں برابر، برابر تقسیم ہوگی، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟ اگر یہ درست نہیں تو اس کا درست شرعی طریقہ کیا ہوگا، وہ بیان فرما دیجیے۔
جواب
صورت مسئولہ میں جو طریقہ اپنایا گیا ہے کہ :"مشترکہ کار کو ایک شریک ٹیکسی پر چلائے گا، آنے والے کرائے میں سے ایک مخصوص رقم چلانے والے کو دے کر بقیہ کچھ بچ جائے تو وہ دونوں میں برابر، برابر تقسیم کی جائے گی "یہ صورت شرعا درست نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ایک درست طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ:
دونوں یہ معاہدہ کریں کہ: "ہم سواریوں کو کرائے پرلے کر جائیں گے، اور جو کرایہ آئے گا، وہ برابر، برابر یا کم و بیش (جتنا باہمی رضامندی سے رکھنا چاہیں لیکن شرط ہے کہ فیصد کے اعتبار سے ہی کمی بیشی کی جائے، مثلا ایک کے لیے 70 فیصد اور دوسرے کے لیے 30 فیصد) آپس میں تقسیم کریں گے ۔" معاہدے میں کام کی کسی سے نفی نہ کریں، ہاں بعد میں صرف ایک ہی کرے یا دونوں کریں یا کبھی ایک کرے، کبھی دوسرا کرے یا ایک بکنگ کرے اور دوسرا چلائے یا کبھی ایک بکنگ کرے، کبھی دوسرا بکنگ کرے اور چلائے، یہ سب صورتیں شرعا درست ہیں۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ٹیکسی یا بکنگ پر گاڑی چلائی جاتی ہے، عموما اس میں گاڑی فکس نہیں ہوتی کہ خاص اس والی گاڑی پرلے کر جانا ہے، بلکہ گاڑی متعین کیے بغیر لے جانے والے سے مطلوبہ مقام تک پہنچانے کا ایگریمنٹ کیا جاتا ہے، جس کے تحت اس کے ذمہ مطلوبہ مقام تک پہنچانا لازم ہوتا ہے، اب وہ کسی بھی گاڑی پرلے جائے، پس جب گاڑی متعین نہیں ہوتی تو اب حاصل ہونے والا کرایہ گاڑی کا نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری کا معاوضہ ہے لہذا جب صرف ایک شریک یہ ذمہ داری لے گا تو اب سارا کرایہ اسی کا حق ہے، اس میں سے دوسرے شریک کو کچھ نہیں ملے گا، ہاں دوسرا شریک اس ذمہ داری لینے والے کو اپنی متعین گاڑی کا حصہ دے رہا ہے تو شرعی طریقہ کے مطابق اجارہ کر کے اس سے اپنے حصہ کا مخصوص کرایہ لے سکتا ہے، جبکہ سوال میں ایسا نہیں، لہذا سوال والی صورت اس کے مطابق بھی درست نہیں ہے۔
اور شرکت کے اعتبار سے بھی سوال والی صورت درست نہیں کہ اس میں ایک کے کام کی نفی کی گئی ہے اور دوسرا نفع کی ایک مقدار ایک کے لیے خاص کر دی گئی ہے، جبکہ یہ شرط شرکت کے منافی ہے، جس کی وجہ سے عقد شرکت فاسد ہو جاتا ہے۔
اور جو درست صورت بتائی گئی ہے، اس میں دونوں کام پر شرکت کر رہے ہیں، کسی ایک سے نفی نہیں کی جا رہی بلکہ دونوں یہ معاہدہ کر رہے ہیں کہ سواری کو پہنچانے کی ذمہ داری ہم دونوں کی ہوگی، اور ملنے والا نفع فیصد کے اعتبار سے تقسیم کیا جا رہا ہے۔لہذا اب دونوں طے شدہ فیصد کے مطابق معاوضے کے مستحق ہوں گے۔ اور جب اس طرح کا معاہدہ کر لیا جائے تو اب بعد میں اگر ایک کام کرے یا کم و بیش کام کریں تو اس سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "إذا تكارى من رجل إبلا مسماة بغير عينها من كوفة إلى مكة فالإجارة جائزة قال الشيخ الإمام خواهر زاده ليس تفسير المسألة أنه استأجر إبلا بغير عينها لأن استئجار إبل بغير عينها لا يجوز لجهالة المعقود عليه بل تفسيرها أن يتقبل المكاري الحمل فيقول له المستكري احملني إلى مكة بكذا فيكون المعقود عليه الحمل في ذمة المكاري، وإنه معلوم والإبل آلة الحمل وجهالة الآلة لا توجب فساد الإجارة كما في الخياط والقصار وما أشبه ذلك قال الصدر الشهيد ونحن نفتي بالجواز كما ذكر في الكتاب وتفسير ذلك ما قلنا وصار ذلك معتادا ولو لم يكن كذلك لا يجوز هكذا في المحيط."
ترجمہ: جب کوئی کسی شخص سے کوفہ سے مکہ تک جانے کے لیے غیر متعین اونٹ کرائے پر لے تو اجارہ جائز ہے۔ شیخ امام خواہرزادہ نے فرمایا: اس مسئلہ کی وضاحت یہ نہیں ہے کہ اس نے غیر متعین اونٹ کرائے پر لیا کیونکہ غیر متعین اونٹ کرائے پر لینا جائز نہیں کہ جس پر عقد ہوا وہ مجہول ہے بلکہ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کرائے پر دینے والا اونٹ پر سوار کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے تو کرائے پر لینے والا اسے کہتا ہے کہ مجھے اتنی اجرت کے بدلے مکہ تک سوار کر کے لے جاؤ، پس جس پر عقد ہوا ہے وہ کرائے پر دینے والے کے ذمہ اونٹ پر سوار کرنا ہے، اور یہ چیز معلوم ہے اور اونٹ سواری کا آلہ ہے اور آلے کی جہالت سے اجارہ فاسد نہیں ہوتا، جیسا کہ درزی اور دھوبی وغیرہ کے مسئلے میں ہوتا ہے، صدر شہید نے فرمایا: اور ہم جواز پر فتوی دیتے ہیں جیسے کتاب میں ذکر کیا گیا اور اس کی وضاحت وہی ہے، جو ہم نے بیان کی، اور یہ معروف ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو جائز نہیں، اسی طرح محیط میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الاجارۃ، الباب السادس والعشرون، ج 04، ص 487، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے ’’(قوله والشركة) فيه أنها تفسد باشتراط ما يؤدي إلى قطع الاشتراك في الربح كاشتراط عشرة لأحدهما‘‘ ترجمہ: شرکت ایسی شرط سے فاسد ہو جاتی ہے جو نفع میں شرکت کو ختم کرنے کی طرف لے جاتی ہو جیسے شریکوں میں سے ایک کے لیے دس روپے کی شرط رکھنا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب البیوع، ج 07، ص 541، مطبوعہ کوئٹہ)
بدائع الصنائع میں ہے”(وأما) الشركة بالأعمال: فهو أن يشتركا على عمل من الخياطة، أو القصارة، أو غيرهما فيقولا: اشتركنا على أن نعمل فيه على أن ما رزق اللہ عز وجل من أجرة فهي بيننا على شرط كذا.“شرکت بالاعمال یہ ہے کہ وہ دونوں کسی کام مثلا سلائی کرنے، کپڑے دھونے یا ان کے علاوہ کسی اور کام پر شرکت کریں تو وہ دونوں کہیں ہم نے اس بات پر شرکت کی کہ ہم اس چیز میں کام کریں گے اس طور پر کہ جو اجرت اللہ عزوجل دے گا تو وہ ہمارے درمیان اس شرط پر ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 5، ص 74، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے "ویکون الکسب بینھماعلی ما شرطا مطلقا فی الاصح" ترجمہ: اصح قول کے مطابق شرکت عمل میں نفع دونوں شریکوں کے درمیان مطلقا اسی کے مطابق ہوگا جو انہوں نے شرط لگائی ہے۔
اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے "وان لم یعمل الآخر ولو حاضرا او امتنع عمدا بلاعذر او لم یحسن العمل اصلا او استعان بغیرہ او استاجرہ فان ھذہ الشرکۃ باعتبار الوکالۃ والتوکیل بتقبل العمل صحیح احسن العمل او لا" ترجمہ: اگر دوسرے نے کام نہ کیا اگرچہ وہ موجود تھا یا بلاعذر عمدا نہ کیا یا اسے سرے سے کام ہی نہیں آتا یا اس نے دوسرے سے مدد لی یا اسے اجارہ پر رکھا کیونکہ یہ شرکت و کالت کے اعتبار سے ہوتی ہے اور کام قبول کرنے میں وکیل بنانا درست ہے کام آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الشرکۃ، ج 02، ص 522، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتارمیں ہے "لایشترط کون التقبل منهما معا" ترجمہ: (شرکت عمل میں) دونوں شریکوں کا اکٹھے قبول کرنا شرط نہیں ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 6، ص 492، مطبوعہ کوئٹہ)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے "ما يتقبله كل واحد منهما مضمون على الآخر ولهذا يستحق الأجر بسبب نفاذ تقبله عليه ۔۔۔۔سواء عمل أحدهما ولم يعمل الآخر أو كان عدم عمل أحدهما لعذر كالمرض والسفر أو لعدم علمه بالعمل أو كان بلا عذر كامتناعه عن العمل أي أن الشريك الغير العامل أيضا مستحق للأجرة على كل حال. أما استحقاق العامل للأجرة فظاهر، وأما استحقاق الشريك غير العامل للأجرة فهو لأنه بتقبل العمل لزمه العمل وكان ضامنا له وبلزوم العمل والضمان يستحق الأجرة ولا تبطل الشركة بمجرد امتناعه عن العمل. والاستحقاق للربح هو للشرط الوارد في العقد وليس بالنسبة للعمل الذي أجري. (البحر ومجمع الأنهر والطحطاوي)"
ترجمہ: شرکت عمل میں دونوں شریکوں میں سے ایک شریک کام قبول کرے گا تو اس کی ذمہ داری دوسرے پر بھی عائد ہوگی اور اسی وجہ سے وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے کہ کام لینے کا نفاذ اس کے اوپر بھی ہوا ہے (اور شرکت عمل میں اجرت دونوں شریک کوملے گی) برابر ہے کہ ان میں سے ایک کام کرے اور دوسرا کام نہ کرے یا ان میں سے ایک کا کام نہ کرنا کسی عذر جیسے مرض اور سفر کی وجہ سے ہو یا اس وجہ سے ہو کہ اسے کام ہی نہیں آتا یا بغیر عذر کے ہو جیسے کہ وہ قصدا کام نہ کرے، مطلب یہ ہے کہ کام نہ کرنے والا شریک بھی ہر حالت میں اجرت کا مستحق ہوگا۔ کام کرنے والے کا اجرت کا مستحق ہونا تو ظاہر ہے اور رہا کام نہ کرنے والے کا اجرت کامستحق ہوناتواس کی وجہ یہ ہے کہ کام قبول کرنے کی وجہ سے اس پرکام لازم ہو چکا اور وہ اس کا ضامن ہو چکا تھا اور عمل کے لازم ہونے اور اس کا ضامن بننے کی وجہ سے وہ اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے اور صرف کام نہ کرنے سے شرکت ختم نہیں ہوتی اور نفع کا استحقاق اس شرط کی وجہ سے ہے جو عقد میں لگائی گئی ہے، ہونے والے کام کی وجہ سے استحقاق نہیں ہے۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، ج 03، ص 416، 414، دار الجیل)
رد المحتار میں ہے "قلت: وبه علم أن الشرط عدم نفي التقبل عن أحدهما لا التنصيص على تقبل كل منهما، ولا على عملهما لأنه إذا اشتركا على أن يتقبل أحدهما ويعمل الآخر بلا نفي كان لكل منهما التقبل والعمل لتضمن الشركة الوكالة. قال في البحر: وحكمها أن يصير كل واحد منهما وكيلا عن صاحبه بتقبل الأعمال، والتوكيل به جائز سواء كان الوكيل يحسن مباشرة ذلك العمل أو لا"
ترجمہ: میرا کہنا ہے کہ اور اسی سے یہ بات پتا چلی کہ شرط یہ ہے کہ کسی شریک سے تقبل یعنی کام لینے کی نفی نہ کی جائے، دونوں کے ایگریمنٹ کرنے کی صراحت کرنا ضروری نہیں ہے، اور نہ ان دونوں کے عمل کرنے کی صراحت کرنا ضروری ہے کیونکہ جب دونوں اس پر شرکت کریں گے کہ ایک ایگریمنٹ کرے گا اور دوسرا کام کرے گا، لیکن کسی سے نفی نہ کی جائے گی تو اس صورت میں دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایگریمنٹ کرنے اور کام کرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ شرکت، وکالت کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے، بحر میں فرمایا: اور شرکت کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے ایگریمنٹ کرنے میں اور اس کی وکالت جائز ہے، خواہ وکیل یہ کام اچھے طریقے سے کر سکتا ہو یا نہ کر سکتا ہو۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الشرکۃ، ج 06، ص 493، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10921
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1443ھ/ 22 اکتوبر 2021ء