
قرآن کریم میں مشرق اور مغرب کے لیے مختلف صیغے کیوں بولے گئے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پاک میں ایک آیت ہے (رب المشرق والمغرب)اورایک آیت ہے(رب المشرقین ورب المغربین)اورایک آیت ہے (برب المشارق والمغارب)یہ تین آیات میں مشرق ومغرب کے لیے مختلف صیغے،واحد،تثنیہ اورجمع کے کیوں استعمال کیے گئے ہیں ،اس کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔ سائل :اشتیاق عطاری(مغلپورہ،لاہور)
سودی بینک میں ملازمت کرنے کا حکم
جواب: متعلق قرآن کریم میں ہے: ’’وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَان‘‘ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔ (پاره:06،...
حیض بند ہونے کے بعد غسل سے پہلے قرآن مجید پڑھنا
جواب: متعلق ترمذی شریف میں ہے"عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شيئا من القرآن" ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:...
کیا مرغی کی دمچی کھانا حلال ہے؟
جواب: متعلق مزید معلومات کے لئے وکی پیڈیا کا یہ پیج وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ https://en.wikipedia.org/wiki/Pygostyle اس کے علاوہ دار الافتاء اہلسنت سے جاری ہون...
جواب: متعلق اور پھر کافر کے سوالات کے متعلق جو الفاظ ہیں، صرف وہ بیان کیے جاتے ہیں) : "فتعاد روحه فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولون له: من ربك؟ فيقول: ربي الله...
ورکنگ پارٹنر کے لیے زیادہ نفع رکھنے کا حکم
سوال: ہم ایک کمپنی قائم کررہے ہیں جو ایمازون پر جائز طریقے سے خریدوفروخت کرے گی ۔ اس میں تین انویسٹر ہیں اور ایک ورکنگ پارٹنر ہے تینوں انویسٹر 99.99 فیصد راس المال لگائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کرے گا اور میں ورکنگ پارٹنر کی حیثیت سے 0.01 فیصد راس المال شامل کروں گا۔کمپنی کو جو نفع ہوگا اس کا 30فیصد ورکنگ پارٹنر کا ہوگا اور بقیہ 70 فیصد انویسٹمنٹ پارٹنرز کا ہوگا اور نقصان سب اپنے سرمایہ کے مطابق برداشت کریں گے ۔نیز ورکنگ پارٹنر کو ہر دو مہینے میں کمپنی سے نفع نکالنے کا اختیار ہوگا ۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ یہ طریقہ درست ہے؟ نوٹ: ایمازون پر اس کام کو کرنے کی شرعی اجازت مرکز الاقتصاد سے دی جاچکی ہے ۔مجھے اب اپنی پارٹنر شپ سے متعلق پوچھنا ہے ۔
گریجویٹی(gratuity) کی رقم کا حکم
جواب: متعلق نہ ہو، تو ان میں وراثت جاری ہوتی ہے۔ چونکہ گریجوٹی فنڈ میت کی ملک نہیں کہ وہ تو انتقال کے بعد تحفہ اور انعام کے طور پر ملاہے، لہذا اس میں وراثت ...
عورت کو روزہ کی حالت میں حیض یا نفاس آجائے تو کیا وہ کھا پی سکتی ہے ؟
سوال: روزے کے دوران عورت کو اگر حیض یا نفاس آجائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟اگر ٹوٹ جاتا ہے تو کھانے پینے سے متعلق کیا حکم ہے ؟بعض کہتے ہیں اگر زوال سے پہلے حیض ونفاس کی وجہ سے ٹوٹے ، تو کھا پی سکتی ہے اور اگر زوال کے بعد ٹوٹے تو روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے اب کھانا پینا جائز نہیں ہے۔
کیا ہر عورت کو اس کے شوہر کی ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے؟
جواب: متعلق ہے کہ انہیں آدم علیہ السلام کی ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ...