
نیند میں کھانے پینے سے روزہ کیوں ٹوٹتا ہے؟
جواب: بے شک اسے اللہ نے کھلا یا پلایا ہے۔(صحیح البخاری،ج08،ص136،رقم6669،دار طوق النجاۃ) اصل حکم تو یہی ہے کہ کھانے پینے اور جماع سے بہر حال روزہ ٹوٹ جا...
شبِ براءت میں آتش بازی کرنے کا شرعی حکم ؟
جواب: بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال (مال کو ضائع کرنا)ہے ،قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔قال اللہ تعالیٰ﴿ لَا تُبَذِّرْ...
سادات کو زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ اور ان کا آپس میں ایک دوسرے کو زکوٰۃ دینے کا حکم؟
جواب: بے شک صدقہ لوگوں کی میل ہے، پس تم اسے نہ کھاؤ۔(کنز العمال، جلد 6، صفحہ 458، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت) ہدایہ شریف میں ہے: ’’لا تدفع الی بنی ھاشم لقولہ ...
جس جگہ بتوں کی پوجا ہوتی ہو، وہاں جانا کیسا؟
جواب: بے شک تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے" پس ہر وہ شخص جو کسی گناہ کی مجلس میں بیٹھے اور ان پر انکار نہ کرے، وہ گناہ میں ان کے ساتھ برابر کا شریک ہوتا ہے۔ ج...
اس نظریے سے گھر میں دیے جلانا کہ بزرگوں کی آمد ہوگی
جواب: بے اصل ہے۔ لہذا اس وجہ سے دیا جلانا ایک غرضِ باطل کے لیے دیا جلانا ہے جو بدعت اور اسراف و ناجائز ہے۔قرآن مجید فرقان حمید میں فرمان باری تعالیٰ ہے:﴿وَل...
جانور کا خون جسم پر لگا کر علاج کرنا کیسا؟
جواب: بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا۔)‘‘القرآن،پارہ 8، سورہ انعام، آیت145( اس آیت کے تحت امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ ’’احکا...
اپنی پروڈکٹ پر دوسری کمپنی کا لیبل لگا کر بیچنا اور دکاندار کا اس سے خریدنا کیسا؟
جواب: بے عزتی ہے۔مسلمان کوئی ایسا کام ہی نہ کرے جس سے جھوٹ بولنا یا رشوت دینا پڑے یا جس سے اس کی بے عزتی ہو۔‘‘(وقارالفتاوی، جلد1، صفحہ252، بزم وقار الدین، ک...
تمباکو اور نسوار حلال ہے، تو الکوحل والا مشروب حرام کیوں؟
جواب: بے خبر ہو، وہ جاہل ہے۔ (درر الحكام فی شرح مجلة الأحكام، جلد 04، صفحہ 618، مطبوعہ دار الجیل) نشہ آور مشروبات کے متعلق احادیث: نبی اکرم صلی اللہ علیہ...
جواب: بے انذار وتحذیرکے نہ قتل کئے جائیں مگرذوالطیفتین کہ اس کی پیٹھ پر دوخط سپید ہوتے ہیں اورابتر کہ ایک قسم ہے سانپ کی کبود رنگ کوتاہ دم، اور ان دونوں قس...
پاکستان سیکولراِزم کی بنیاد پر بنا تھا؟
سوال: سیکولر لوگ کہتے ہیں ” پاکستان اسلامی جمہوریہ کی بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ سیکولرازم کی بنیاد پر بنایا گیا تھا لیکن بعد میں مولویوں نے اس پر اسلامی نام پر قبضہ کرلیا ۔“کیا یہ بات درست ہے؟اپنی دلیل میں وہ کہتے ہیں کہ 11اپریل 1946 کو مسلم لیگ کنونشن دہلی میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نےکہا : ’’ہم کس چیز کےلئے لڑ رہے ہیں ۔ہمارا مقصد تھیوکریسی نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں تھیوکریٹک اسٹیٹ چاہیے ۔ مذہب ہمیں عزیز ہے ، لیکن اور چیزیں بھی ہیں جو زندگی کے لیے بے حد ضروری ہیں ۔مثلاً ہماری معاشرتی زندگی ، ہماری معاشی زندگی اور بغیر سیاسی اقتدار کے آپ اپنے عقیدے یا معاشی زندگی کی حفاظت کیسے کرسکیں گے؟“ 1946 میں رائٹرز کے نمائندے ڈول کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظم کا کہنا تھا:” نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوگی۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے ۔“