logo logo
AI Search

شب براءت میں آتش بازی کا حکم؟

شبِ براءت اور آتش بازی

مجیب:مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:Pin-4769
تاریخ اجراء:19ذیقعدۃ الحرام1437ھ/23اگست 2016ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شادی بیاہ، شب براء ت اور دیگر تقریبات میں آتش بازی کرنا خصوصاً رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں اور آتش بازی کی وجہ سے ان کے آرام میں خلل واقع ہو، شرعاً کیسا ہے؟ نیز آتش بازی کے پروگراموں میں شرکت کرنا کیسا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

آتش بازی جس طرح شادی بیاہ، شب براءت اور دیگر تقریبات میں رائج ہے، ناجائز و حرام ہے کہ اس میں مال کو ضائع کرنا ہے اور رات کے وقت آتش بازی کرنے میں اسراف کے ساتھ ساتھ ایذائے مسلم بھی پائی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے آرام میں خلل واقع ہوتا ہے اور کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذا دینا بھی حرام ہے۔ اسی طرح آتش بازی کے پروگرام میں شرکت کرنا بھی ناجائز و حرام ہے کہ جس کا کرنا حرام ہو اس کو دیکھنا اور اس پر خوش ہونا بھی حرام ہوتا ہے۔

امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن آتش بازی کے حوالے سےفرماتے ہیں: آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب براءت میں رائج ہے، بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال (مال کو ضائع کرنا) ہے، قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔

قال اللہ تعالیٰ

 لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا  اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ  وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کسی طرح بے جا خرچ نہ کیا کرو، کیونکہ بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا نا شکرا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ان اللہ تعالیٰ کرہ لکم ثلٰثا قیل وقال واضاعۃ المال وکثرۃ السوال۔ رواہ البخاری عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ

بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین کاموں کو ناپسند فرمایا (1) فضول باتیں کرنا (2) مال ضائع کرنا (3) بہت زیادہ سوال کرنا اور مانگنا، امام بخاری نے اس کو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے۔

شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی ما ثبت بالسنۃ میں فرماتے ہیں:

من البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلادالھند من اجتماعھم للھو واللعب واحراق الکبریت

بُری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لیے جمع ہونا گندھک جلانا وغیرہ۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد23، صفحہ279، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

رات کے وقت آتش بازی کرنا یقیناً مسلمانوں کی ایذا کا باعث بنتی ہے اور بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو اذیت دینا بھی حرام ہے، حدیث پاک میں ہے: 

من اٰذی مسلماً، فقد اٰذانی، ومن اٰذانی، فقد اذی اللہ

ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (المعجم الاوسط، باب السین، من اسمہ سعید، جلد 4، صفحہ 60، دار الحرمین، قاھرہ)

حرام کام کا تماشہ دیکھنا بھی حرام ہے، چنانچہ درمختار پھر ردالمحتار میں ہے:

کرہ کل لھو۔ ۔ ۔ والاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ

ترجمہ: ہر کھیل مکروہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اس کو مطلق ذکر کرنا اس کے کرنے اور سننے دونوں کو شامل ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد9، صفحہ651، مطبوعہ پشاور)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: الفرجۃ علی المحرم حرام

ترجمہ: کسی حرام کام پر خوش ہونا بھی حرام ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، جلد1، صفحہ31، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: شعبدہ باز بھان متی بازیگر کے افعال حرام ہیں اور اس کا تماشہ دیکھنا بھی حرام ہے کہ حرام کو تماشہ بنانا بھی حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد21، صفحہ159، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم