خالی قینچی چلانے سے لڑائی ہوتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا بلا وجہ قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عوام میں مشہور ہے کہ بلا وجہ قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔ کیا ایسا ہے؟

جواب

بلاوجہ قینچی چلانے سے یہ سمجھنا کہ گھر میں لڑائی ہوتی ہے، یہ بدشگونی ہے، جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، کسی چیز سے بد شگونی لینا مسلمانوں کا طریقہ نہیں، لہذا بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ اچھائی برائی، غمی خوشی، اسی طرح کسی کام کا سنورنا بگڑنا، الغرض کوئی کام بھی اللہ رب العالمین کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

﴿قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ-قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ

 ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے، فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (القرآن، سورۃ النمل، پارہ 19، آیت: 47)

 مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں۔۔۔ اور مصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے

﴿ وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ

ترجمہ کنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا ساکام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالٰی اسےتوکّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 211، 212، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے بد فالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”لیس منا من تطیر یعنی: جس نے بد شگونی لی وہ ہم میں سے نہیں(یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، حدیث: 355، مطبوعہ قاھرۃ)

امام محمد آفندی رومی برکلی فرماتے ہیں: ”بد شگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔“ (باطنی بیماریوں کا علاج، صفحہ 286، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4577

تاریخ اجراء: 06رجب المرجب1447ھ/27دسمبر2025ء