دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ نمازی کے آگے سے گزرنا گناہِ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
سائل: غلام رسول (فیصل آباد)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نمازی کے سامنے سے بغیر سُترے کےگزرنا مکروہِ تحریمی، ناجائز اور گناہِ صغیرہ ہے کہ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی کہ ہر مکروہ تحریمی گناہِ صغیرہ ہے اور اگر نمازی کے سامنے سترہ موجود ہو، اس کے باوجود کوئی شخص جان بوجھ کر سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرے، تو یہ سخت مکروہ و گناہ ہوگا، ہاں اگرکوئی شخص قصداً بار بار اس فعل کا ارتکاب کرے، تو اس کے حق میں یہ فعل کبیرہ بن جائے گا، کیونکہ صغیرہ پر اصرار اسے کبیرہ بنا دیتا ہے۔
یاد رہے! بیان کردہ حکم مکان یا چھوٹی مسجد (آج کل عام مساجد مسجدِ صغیر یعنی چھوٹی مسجد ہی کے حکم میں ہیں) کے متعلق ہے کہ ایسی جگہ نمازی کے قدموں سے دیوارِ قبلہ تک بغیر سترہ گزرنا، جائز نہیں، البتہ میدان یا مسجدِ کبیر(یعنی بڑی مسجد، جیسے مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ حرام یامسجدِ نبوی) میں نمازی کے قدم سے مَوضع سجود تک گزرنا، جائز نہی موضعِ سجود کے باہر سے گزر سکتے ہیں۔ موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کرے تو جتنی دور تک نگاہ پھیلے وہ موضعِ سجود ہے، میدان یا مسجدِ کبیرمیں اس حدِ نگاہ کے باہر سے گزر سکتے ہیں۔
نمازی کے آگے سے گزرنے کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس، فأراد أحد أن يجتاز بين يديه، فليدفعه، فإن أبى فليقاتله، فإنما هو شيطان
ترجمہ: جب تم ميں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہو جو ا س کے لیے لوگوں سے سترہ بن سکتی ہو (یعنی سترے کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو) پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے، تو وہ اسے اپنے سامنے سے ہٹا دے اگر گزرنے والانہ مانے، تو اس سے جھگڑا کرے، کيونکہ وہ شيطان ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 108، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)
صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں ہے
و اللفظ للاوّل: قال ابو جهیم: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لو یعلم المار بین یدی المصلی ماذا علیه لكان ان یقف اربعین خیرا له من ان یمر بین یدیه۔ قال ابو النضر: لا ادری اقال اربعین یوما او شهرا او سنة
ترجمہ: حضرت ابوجہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس تک ٹھہرنا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ ابو نصر کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۔ (صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 108، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں:
قال الطحاوی: المراد اربعون سنة لا یوما و لا شهرا نقله الطیبی
ترجمہ: امام طحاوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ لکھتے ہیں: چالیس سے مراد چالیس سال ہیں، نہ کہ چالیس دن یا مہینے، اِسی کو امام طیبی نے نقل کیا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 642، مطبوعہ بیروت)
نمازی کے سامنے سے گزرنا، مکروہِ تحریمی ہے اور سترہ موجود ہو، اس کے باوجود قصداً سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرنا، سخت مکروہ ہے، جیساکہ مشہور فقیہ و محدث علامہ بدر الدین عینی حنفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ لکھتے ہیں:
و المرور بين يدي المصلي مكروه إذا كان إماما أو منفردا أو مصليا إلى سترة، و أشد منه أن يدخل المار بين السترة و بينه
ترجمہ: نمازی امام ہو، منفرد ہو یا سترہ کی طرف رخ کر کے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، تینوں صورتوں میں نمازی کے سامنے سے گزرنا، مکروہ (تحریمی) ہے، البتہ ان سب صورتوں میں سخت حکم اس صورت کا ہے کہ کوئی شخص سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرے۔ (عمدۃ القاری، جلد 2، صفحہ 70، مطبوعہ بیروت)
محیطِ برہانی میں ہے:
أن المرور بين يدي المصلي مكروه والمار آثم
ترجمہ: نمازی کے آگے سے گزرنا، مکروہِ تحریمی ہے اور گزرنے والا گناہ گار ہوگا۔ (المحيط البرهاني، جلد 1، صفحہ 431، مطبوعہ دار الكتب العلميه، بيروت)
بحر الرائق، تبیین الحقائق اور رد المحتار میں ہے
و اللفظ للاوّل: أن المار آثم للحديث ... و بهذا علم أن الكراهة تحريمية لتصريحهم بالاثم و هو المراد بقوله وإن أثم المار بين يديه
ترجمہ: حدیثِ پاک کی دلالت کی وجہ سے نمازی کے آگے سے گزرنے والا گناہ گار ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ کراہت تحریمی ہے (تنزیہی نہیں)، کیونکہ فقہائے کرام نے گناہ کی تصریح فرمائی ہے اور فقہائے کرام کے اس قول ”نمازی کے سامنے سے گزرنا، گناہ ہے“ سے تحریمی مراد ہے۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 17، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
ہر مکروہِ تحریمی گناہِ صغیرہ ہوتا ہے، چنانچہ امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 524، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مکان یا چھوٹی مسجد اور صحرا یا بڑی مسجد میں نمازی کے آگے سے گزرنے کے حکم کے متعلق تنویر الابصار و در مختار میں ہے
(و مرور مار فی الصحراءاو فی مسجد كبير بموضع سجوده) فی الاصح (او) مروره (بين يديه) الى حائط القبلة (فی) بيت و (مسجد) صغير، فانه كبقعة واحدة (مطلقا)... (و ان اثم المار)
ترجمہ: اور صحراء یا مسجدِ کبیر میں اصح قول کے مطابق موضع سجود سےاورگھر یا مسجدِ صغیر میں دیوارِ قبلہ تک گزرنا کہ یہ ایک ہی حصے کے حکم میں ہے مطلقاً نماز کو فاسد نہیں کرتا، اگرچہ گزرنے والا گنہگار ہو گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 479 تا 481، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: نماز اگر مکان یا چھوٹی مسجد میں پڑھتا ہو، تو دیوار قبلہ تک نکلنا جائز نہیں جب تک بیچ میں آڑ نہ ہو، اور صحرا یا بڑی مسجد میں پڑھتا ہو، تو صرف موضع سجود تک نکلنے کی اجازت نہیں، اس سے باہر نکل سکتا ہے، موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ آدمی جب قیام میں اہلِ خشوع و خضوع کی طرح اپنی نگاہ خاص جائے سجودپرجمائے، یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی، تونگاہ کا قاعدہ ہے کہ جب سامنے روک نہ ہو تو جہاں جمائے وہاں سے کچھ آگے بڑھتی ہے، جہاں تک آگے بڑھ کر جائے وہ سب موضع میں ہے، اس کے اندرنکلنا حرام ہے، اور اس سے باہرجائز۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 254، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اشکال: آپ نے کہا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا، مکروہِ تحریمی ہے، جبکہ اوپر بیان کردہ جزئیہ میں امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے اس کو حرام لکھا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف مکروہِ تحریمی و صغیرہ نہیں ہونا چاہیے؟
جواب: امامِ اہل سنت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کا اس کو کسی مقام پر حرام لکھنا، اس کے کبیرہ ہونے کو مستلزم نہیں، کیونکہ فقہائے کرام علیہم الرحمۃ کے ہاں بہت دفعہ مکروہِ تحریمی پر حرام کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، فقہ میں اس کی بہت سی امثلہ و نظائر موجود ہیں، مثلاً
(1) جمعہ کی اذانِ اوّل کے بعد خرید و فروخت کرنا، مکروہِ تحریمی ہے، لیکن بعض فقہائے کرام نے اس کے لیے حرام کا لفظ استعمال کیا ہے۔
(2) ایک آدھ دفعہ داڑھی منڈانا یا کتروانا ترکِ واجب ہونے کے سبب مکروہِ تحریمی و گناہِ صغیرہ ہے اور عادت بنا لینا حرام و گناہِ کبیرہ ہے، لیکن فقہائے کرام عموماً اس مکروہِ تحریمی کے لیے بھی حرام کا لفظ استعمال کر تے ہیں۔ ذیل میں جزئیات ملاحظہ فرمائیے۔
مکروہِ تحریمی پر حرام کا اطلاق کیا جاتا ہے، چنانچہ بحرالرائق، الاشباہ و النظائر، درر الحکام شرح غرر الاحکام وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے ،
و اللفظ للاوّل: و يصح إطلاق اسم الحرام عليه كما وقع في الهداية
ترجمہ: مکروہِ تحریمی پر حرام کا اطلاق کرنا، درست ہے، جیسا کہ ہدایہ میں وارد ہوا۔ (بحرالرائق، جلد 2، صفحہ 168، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
جمعہ کی اذانِ اوّل کے بعد خرید و فروخت کرنا، مکروہِ تحریمی ہے، جب کہ صاحبِ ہدایہ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے اس کو حرام لکھا ہے، چنانچہ ہدایہ میں ہے:
و إذا صعد الامام المنبر جلس وأذن المؤذنون بين يدي المنبر بذلك جرى التوارث و لم يكن على عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم إلا هذا الأذان و لهذا قيل هو المعتبر في وجوب السعي و حرمة البيع و الأصح أن المعتبر هو الأول إذا كان بعد الزوال لحصول الاعلام به
ترجمہ: اور جب امام منبر پر بیٹھ جائے، تو مؤذن اذان کہیں ، یہی طریقہ متوارثہ ہے اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ مبارکہ میں یہی ایک اذان ہوتی تھی، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ جمعہ کی سعی اور خرید و فروخت کے حرام ہونے کے لیے یہی اذان معتبر ہے، مگراصح قول کے مطابق پہلی اذان معتبر ہے، جب کہ زوال کے بعد دی جائے، کیونکہ اس سے اعلام کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ (الهداية، جلد 1، صفحہ 84، مطبوعہ دار احیاء التراث، بیروت)
ہدایہ کی عبارت میں علامہ مرغینانی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے مکروہِ تحریمی پر حرام کا اطلاق کیا ہے، جیسا کہ غرر الاحکام میں ہے:
قال في الهداية بوجوب السعي و حرمة البيع، لأن البيع وقت الأذان جائز و لكنه مكروه كما تقرر في كتب الفروع والأصول
ترجمہ: ہدایہ میں فرمایا: اذانِ اوّل کے بعد سعی واجب اور خرید و فروخت حرام ہے، حالانکہ اس وقت خرید و فروخت صحیح ہو تی ہے، مگر (یہ عمل) مکروہ (تحریمی) ہے، جیسا کہ کتب اصول و فروع میں یہ بات ثابت شدہ ہے۔
غرر الاحکام کی مذکورہ عبارت کے تحت شرح درر الحکام میں ہے:
(قوله و كره البيع) أقول: أي كراهة تحريم (قوله؛ لأن البيع وقت الأذان جائز) أي صحيح...و قال في البحر إنه يصح إطلاق الحرمة على المكروه تحريما كما وقع في الهداية
ترجمہ: (مصنف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کا قول: اذانِ جمعہ کے بعد بیع مکروہ ہے) یعنی مکروہِ تحریمی ہے۔ (اور مصنف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کا یہ قول کہ بیع جائز ہے) یعنی: بیع صحیح ہوتی ہے۔ اور بحر میں فرمایا: مکروہِ تحریمی پر حرام کا اطلاق صحیح ہے، جیساکہ ہدایہ میں وارد ہوا ہے۔ (درر الحكام مع شرح غرر الأحكام، جلد 1، صفحہ 140، مطبوعہ دار احیاء الکتب العربیۃ )
ایک آدھ بار داڑھی منڈانا، ترکِ واجب ہونے کے سبب مکروہِ تحریمی و گناہِ صغیرہ ہے، جیسا کہ امامِ اہل سنت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: (داڑھی) کتروانا یا مُنڈوانا ایک دفعہ کا صغیرہ گناہ ہے اور عادت سے کبیرہ جس سے فاسقِ مُعْلِن ہو جائے گا۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، صفحہ 141، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
مگر داڑھی منڈانے کو فقہائے کرام مطلقاً حرام لکھتے ہیں، جیسا کہ شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052ھ) لکھتے ہیں:
حلق کردن لحیہ حرام است وگزا شتن آں بقدر قبضۃ واجب
ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے اور ایک مٹھی کی مقدار چھوڑنا واجب ہے۔ (اشعۃ اللمعات، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر)
اور اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ لکھتے ہیں: داڑھی منڈانا اور کتروا کر حدِ شرع سے کم کرانا، دونوں حرام و فسق ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 505، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9594
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاولی 1447 ھ / 29 اکتوبر 2025 ء