دل میں حسد ہو تو توبہ کیسے کی جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کے دل میں حسد ہو وہ توبہ کس طرح کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کے دل میں کسی شخص کے لیے جلن ہو اور اسے اس بات کا احساس ہو جائے تو وہ کس طرح توبہ کرے گا؟ کیا اسے سامنے والے کو بتانا ہوگا کہ وہ اس سے جلتا ہے اور اس سے معافی مانگنی ہوگی؟

جواب

بلاوجہ شرعی مسلمان سے متعلق دل میں حسدجلن یا دشمنی رکھنا جائز نہیں۔ اگر کسی مسلمان کے بارے میں ایسا معاملہ ہو تو اسے بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ خود اپنے دل سے اس چیز کو دور کرنے کی کوشش کرے اور بارگاہِ الہٰی میں اپنے لیے اس باطنی بیماری سے نجات اور جس سے حسد ہوگیا، اس مسلمان کے لیے بھلائی کی دعا کرے نیز اس جلن کے غلط تقاضے پر عمل نہ کرے ورنہ گناہگار ہوگا۔

حسد وغیرہ باطنی بیماریوں کے روحانی علاج جاننے کے لیے دعوت اسلامی کے مکتبۃ المدینہ سے شائع شدہ کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات“ کا مطالعہ کریں۔

اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک درج ذیل ہے

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2338

تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1447ھ / 07 جولائی 2025ء