logo logo
AI Search

بچپن میں چوری کی تھی اور اب بالغ ہوگیا تو کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچپن میں کوئی چیز چوری کی تھی، اب بالغ ہوگئے، تو کیا حکم ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کس شخص نے اپنے بچپن میں کوئی چیز چوری کی تھی، اب بالغ ہوگیا، تو ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

چوری کرنا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، البتہ نا بالغ چونکہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے پوچھی گئی صورت میں وہ گناہگار نہیں، لیکن اس نے جو چیز چوری کی ہے، وہ اگر موجود ہو تو اسے مالک تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر وہ موجود نہ ہو تو پھر اس کا تاوان اس پر ضرور لازم ہوگا، جو اصل مالک کو ادا کیا جائے گا، اور اگر اصل مالک نہ رہا ہو، تو اس کے وارثوں کو، اور وہ بھی نہ ہوں، تو ثواب کی نیت کے بغیر، کسی شرعی فقیر کو صدقہ کر دیا جائے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2326

تاریخ اجراء:29ذو القعدۃالحرام1446ھ/27مئی2025ء