دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کسی کا کام پرنٹنگ کا ہو اور اس میں لوگ اس سے اپنی بیٹی کی سالگرہ کرنے کے بعد یاد کے طور پر ایلبم (Album)بنوا تے ہوں، یا اگر کوئی اپنی تصویر یاد کے طور پر رکھنے کیلئے اس سے پرنٹ نکلوائے۔ اسی طرح آج کل محافل کے لئے بینرز لگائے جاتے ہے جن میں نعت خواں و مقررین کی تصاویر کا بھی پرنٹ نکلواتے ہیں، تو اس صورت میں پرنٹ نکالنے کا کیا حکم ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے، رہنمائی ارشاد فرما دیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ڈیجیٹل تصاویر حقیقت میں تصویر نہیں ہوتی، بلکہ محض عکس ہوتی ہیں۔ البتہ جب ان کا پرنٹ نکالا جائے تو وہ تصویر بنانے کے حکم میں آجاتی ہیں۔ شرعاً کسی بھی ذیروح (جاندار) کی تصویر بنانا ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے۔ لہذا ذیروح (جاندار)کی ڈیجیٹل تصاویر خواہ وہ سالگرہ کی ہوں یا دیگر تقریبات کی، نعت خواں ومقررین کی ہوں یا کسی اور کی، بہرحال ان کا پرنٹ نکالنا، نکلوانا شرعاً ناجائزو گناہ ہے۔ ایسی تصاویر کے پرنٹ نکالنے کا کام کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ کے کام میں مدد کے زُمرے میں آتا ہے، جس سے قرآنِ کریم میں واضح طور پر منع فرمایا گیا ہے۔
تصویر بنانے کی مذمت سے متعلق، صحیح مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے:
’’سمعت عبد الله بن مسعود يقول: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون‘‘
ترجمہ: میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو تصویر بنان ےوالے ہیں۔ (صحیح مسلم، جلد3، صفحہ1670، رقم الحدیث: 2109، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
صحيح بخاری کی حدیث پاک ہے:
” أن عبد اللہ بن عمر، رضي اللہ عنهما أخبره: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال:ان الذین یصنعون ھذہ الصوریعذبون یوم القیمۃ یقال لھم احیواماخلقتم“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا: یہ تصویرں جو تم نے بنائی تھیں، اب اُن میں جان ڈالو۔ (صحیح البخاری، جلد7، صفحہ167، رقم الحدیث: 5951، دار طوق النجاة)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”قال اصحابنا وغيرهم من العلماءتصويرصورة الحيوان حرام شديدالتحريم وهومن الكبائرلانه متوعدعليه بهذاالوعيدالشديدالمذكورفی الاحاديث“
ترجمہ: ہمارے اصحاب اور دیگر علماء کرام نے فرمایا: حیوانات کی تصویر بنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ اس پر احادیث میں شدید قسم کی وعید ذکر کی گئی ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب التصاویر، جلد7، صفحہ2848، دارالفکر، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’فوٹو ہو یا دستی تصویر، پوری ہو یا نیم قد، بنانا، بنوانا سب حرام ہے، نیز اس کا عزت سے رکھنا حرام اگرچہ نصف قد کی ہو کہ تصویر فقط چہرہ کا نام ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ 568، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
گناہ کے کام پر مدد ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ اس کی ممانعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ‘‘
ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 06، سورۃ المائدہ، آیت 02)
تبیین الحقائق میں ہے:
’’الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر كذا الذخيرة والمحيط‘‘
ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ترغیب دلانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، یونہی ذخیرہ اور محیط میں ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد4، صفحہ222، مطبوعہ قاھرۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-977
تاریخ اجراء: 19 جمادی الاولی1446ھ/11 نومبر 2025ء