بچے بیمار کیوں ہوتے ہیں حالانکہ گناہگار نہیں ہوتے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے بیمار کیوں ہوتے ہیں حالانکہ وہ گنہگار بھی نہیں ہوتے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نابالغ، ناسمجھ بچے بیمار کیوں ہوتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ شمار نہیں ہوتے، کیا والدین کے گناہوں کی سزا میں بچے بیمار ہوتے ہیں؟

جواب

یہ بات تو حقیقت پر مبنی ہے کہ بیماری، مسلمان کے لیےاللہ تعالی کی رحمت ہے، اگر بندہ مؤمن اس پر صبر کرے اور راضی برضائے الہی رہے تو اس کی وجہ سے اس شخص کی خطائیں معاف کی جاتی ہیں، لیکن بیماری کو صرف گناہوں کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں بلکہ بعض اوقات یہ آزمائش اور درجات کی بلندی کے لئے بھی آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بخار وغیرہ چند امراض نے انبیائے کرام علی نبینا و علیہم الصلاۃ و السلام کی قدم بوسی کی ہے، خود حضور جان عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں بخار نے حاضری دی ہے ، لہذا بچوں کی بیماری اور انہیں تکلیف پہنچنا، بلندی درجات کا سبب ہے، انہیں والدین کے گناہوں کا نتیجہ سمجھنا صحیح نہیں، ہاں! بعض اوقات اولاد کی بیماری،والدین کے لئے آزمائش ہوتی ہے، تاکہ صبر و تحمل کرکے اجر و ثواب کے مستحق ہوں۔

صحیح بخاری میں ہے

عن أبي هريرة: عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: «ما يصيب المسلم من نصب و لا وصب و لا هم ولا حزن و لا أذى و لا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر اللہ بها من خطاياه

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی تکلیف، بیماری، غم و رنج، ایذا، غم پہنچتا ہے، حتی کہ کانٹا جو اسے چبھتاہے، تو الله عزوجل اس کے بدلے اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث 5641، ج 7، ص 114،دار طوق النجاۃ)

انبیائے کرام علیہم الصلاۃو السلام کے بخار کے متعلق صحیح بخاری میں ہے

قال عبد اللہ بن مسعود: دخلت على رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و هو يوعك وعكا شديدا، فمسسته بيدي فقلت: يا رسول اللہ، إنك لتوعك وعكا شديدا؟ فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: «أجل، إني أوعك كما يوعك رجلان منكم» فقلت: ذلك أن لك أجرين؟ فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: «أجل» ثم قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: «ما من مسلم يصيبه أذى، مرض فما سواه، إلا حط اللہ له سيئاته، كما تحط الشجرة ورقها»

ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ کو بہت تیز بخارتھا، تو میں نے اپنے ہاتھ سے آپ کا مبارک جسم چھوا تو عرض کی یا رسول الله !آپ کو تو بہت تیز بخار ہے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مجھ کو تمہارے دو شخصوں کے برابر بخار ہواکرتا ہے، میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہوگا کہ آپ کو ثواب بھی دوگنا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اسی وجہ سے، پھر آپ نے فرمایا کوئی مسلمان ایسانہیں جسے کوئی تکلیف، بیماری وغیرہ پہنچے مگر الله تعالٰی اس کے گناہ یوں جھاڑ دیتا ہےجیسے درخت اپنے پتوں کو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 5660، ج 7، ص 118،دار طوق النجاۃ)

اس حدیث پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: خیال رہے کہ بخارمرضِ انبیاء ہے، ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وفات بخار ہی سے ہوئی۔

(ذلك لأن لك أجرين)

کے تحت لکھتے ہیں:  یہ ہے صحابہ کا ادب و احترام، یعنی یارسول الله یہ تو وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کی بیماری خطاؤں کی معافی کے لیے ہو،آپ کو گناہ و خطا سے نسبت ہی کیا،آپ کی بیماری صرف بلندیٔ درجات کے لیے ہوسکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے ہم گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں ان سے نیک کاروں کے درجے بڑھتے ہیں۔(ما من مسلم) کے تحت مزید فرماتے ہیں: ”مسلمان سے مراد گنہگار مسلمان ہے۔ بے گناہ مسلمان جیسے ابوبکر صدیق وغیرہم اور ناسمجھ بچے اس حکم سے علیحدہ ہیں، ان کے درجے بلند ہوں گے۔ ( مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 410، 411، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4591

تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1447ھ / 31 دسمبر 2025ء