ٹک ٹاک پر تصویر کے ساتھ گانا لگانا کیسا؟

اپنی تصویر پر گانے لگا کر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اپنی تصویروں پہ گانا لگانا کیسا؟ اور اسے ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنا کیسا؟ مرد و عورت دونوں کے لیے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

اپنی تصویروں پر گانا لگا کر اسے سننا سنانا، اور اسے ٹک ٹاک وغیرہ پر اپلوڈ کرنا، ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، چاہے مرد ایسا کرے یا عورت۔ اور یہ گناہ جاریہ ہے کہ جتنے لوگ ٹک ٹاک پر، وہ گانا سنیں گے، ان سننے والوں کو تو اس کا گناہ ملے گا، لیکن ان کے ساتھ ساتھ اس اپلوڈ کرنے والے کو بھی ان کی تعدادبرابر گناہ ملے گا، اور جب تک لوگ اسے سنتے رہیں گے، اسے گناہ ملتا رہے گا۔ اور اگر عورت اپنی بے پردہ تصویر پر گانا لگا کر اسے ٹک ٹاک وغیرہ اپلوڈ کرے، تو اس کے لیے ڈبل گناہ جاریہ ہے کہ ایک موسیقی کا اور دوسرا اپنی بے پردہ تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا۔

اللہ رب العالمین قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ- اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ

ترجمہ کنز العرفان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں اور انہیں ہنسی مذاق بنالیں۔ ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ (القرآن، پارہ 21، سورۃ لقمان، آیت: 6)

علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت ”التفسیر المظھری“ میں لکھتے ہیں:

و عن ابى مالك الأشعري انه سمع رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول يشربون الناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها و يضرب على رؤسهم المعازف و القينات يخسف اللہ بهم الأرض و يجعل منهم القردة و الخنازير رواه ابن ماجة و صححه ابن حبان۔۔۔ (مسئله): - قالت الفقهاء الغناء حرام بهذه الاية لكونه لهو الحديث و بما ذكرنا من الأحاديث

یعنی: حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں کئی لوگ ایسے ہوں گے جو شراب کے نام بدل بدل کر پئیں گے، ان کےپاس آلات موسیقی بجائے جائیں گےاور گانے والیاں گانا گائیں گی، اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں کئی لوگوں کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ (التفسیر المظھری، سورۃ لقمان، جلد 7، صفحہ 248، مطبوعہ: کوئٹہ)

مسند امام احمد میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

إن اللہ بعثنی رحمۃ للعالمین، و ھدی للعالمین، و أمرنی ربی بمحق المعازف و المزامیر

ترجمہ: بیشک میرے رب نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے، اور میرے رب نے مجھے معازف و مزامیر (آلات موسیقی) توڑنے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، جلد 36، صفحہ 646، حدیث: 22307، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے

(و استماع الملاهي حرام) كالضرب بالقضيب و الدف و المزمار و غير ذلك۔ قال علیہ السلام: (استماع صوت الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها من الكفر)۔ الحديث خرج مخرج التشديد وتغليظ الذنب

ترجمہ: لہو و لعب کے آلات کو سننا حرام ہے مثلاًلکڑی کو کسی چیز پر مار کر، دف اور مزامیر وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: (آلات لہو و لعب کو سننا گناہ، ان کے پاس بیٹھنا فسق، اور ان سے لذت حاصل کرنا کافروں کا سا کام ہے)۔ حدیث میں کفر کا حکم سختی اور گناہ میں شدت کے طور پر دیا گیا ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 4، صفحہ 165، 166، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

و من دعا إلى ضلالة،كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا

ترجمہ: جو کسی کو گمراہی کی طرف بلائے، جتنے اس کے بلانے پرچلیں گے ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو گا اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ (صحیح مسلم، کتاب العلم، صفحہ 1032، حدیث: 2674، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”میں نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ ایسی محافل میں جتنے لوگ کثرت سے جمع کئے جائیں گے اسی قدر گناہ و وبال صاحب محفل وداعی پر بڑھے گا۔ حضار سب گنہگار اور اُن سب کا گناہ گانے بجانے والوں پر اور اُن کا ان کا سب کا بلانے والوں پر۔ بغیر اس کے کہ اُن میں کسی کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہومثلاً دس ہزار حضار کامجمع ہے تو ان میں ہرایک پرایک ایک گناہ، اور فرض کیجئے تین اقوال تو اُن میں ہرایک پراپنا گناہ اور دس دس ہزارگناہ حاضرین کے، یہ مجموعہ چالیس ہزار چار اور ایک اپنا، کل چالیس ہزارپانچ گناہ داعی وبانی پر۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من دعا الٰی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لاینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا۔ رواہ الائمۃ احمد و الستۃ الا البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

ایسے محرمات کومعاذ اللہ موجب قربت جاننا جہل و ضلال اور ان پر اصرار کبیرہ شدید الوبال اور دوسروں کو ترغیب اشاعت فاحشہ و اضلال، و العیاذ باللّٰہ من سوء الحال۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 150، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4549

تاریخ اجراء: 25 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 17 دسمبر 2025ء