کتنے لوگوں کے سامنے گناہ کرنے سے فاسقِ معلن کہلاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کتنے بندوں کے سامنے گناہ کرنے سے فاسق معلن ہوتا ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گناہ کرنے سے بندہ فاسق ہوجاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ کتنے لوگوں کو گناہ کا پتا چلے تو بندہ فاسق ہوتا ہے؟
جواب
فِسْق کا لغوی معنیٰ: خُروج یعنی کسی چیز سے باہر نکل جانا ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر نکل جانے یعنی نافرمانی کرنے پر فسق کا اطلاق ہوتا ہے۔ بہرحال شرعی اعتبار سے جو کبیرہ گناہ ایک مرتبہ بھی کرلے، یا صغیرہ گناہ پر اصرار کرے یعنی اسے بار بار کرے، ایسا شخص فاسق کہلاتا ہے، چاہے وہ چھپ کر کرے یا سب کے سامنے، بہرصورت وہ فاسق ہوجائے گا۔ البتہ لوگوں سے چھپ کر اور ان کے سامنے علی الاعلان گناہ کرنے کے اعتبار سے فاسق کی دو قسمیں ہیں: اگر وہ گناہ چھپ کر کرے، تو اُسے ’’فاسقِ غیر مُعْلِن‘‘ کہا جاتا ہے، اور اگر لوگوں کے سامنے کھلم کھلا گناہ کرے تو اسے ’’فاسق مُعْلِن‘‘ کہا جاتا ہے یعنی علی الاعلان گناہ کرنے والا۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاسق معلن ہونے کیلئے کتنے لوگوں کے سامنے علی الاعلان گناہ کرنا، یا کتنے لوگوں کو اس گناہ کا پتا چلنا ضروری ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل اس میں گناہ کا اعلان ہے اور ادنی یعنی کم سے کم درجے کا اعلان دو لوگوں کے سامنے کرنے سے بھی حاصل ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہ ایک بار بھی، یا صغیرہ گناہ پر اصرار کم از کم دو لوگوں کے سامنے کرلے، یا ان کو اپنے گناہ کے بارے میں بتادے جس سے ان کو اس کے گناہ کا علم ہوجائے، تو اس سے گناہ کا اعلان حاصل ہوجائے گا اور ایسا شخص فاسق معلن ٹھہرے گا۔
اعلان میں دو افراد کو ادنیٰ درجہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ نکاح سے متعلق حدیث مبارکہ میں حکم دیا گیا ہے کہ نکاح اعلان کے ساتھ کرو اور خفیہ نکاح کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ فقہائے احناف رحمہم اللہ تعالی نے واضح کیا ہے کہ خفیہ نکاح وہ ہوتا ہے جس میں دو گواہ موجود نہ ہوں، اور جس نکاح میں دو گواہ حاضر ہوں وہ خفیہ نہیں بلکہ اعلانیہ نکاح ہوگا۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ ’’راز کی بات جب دو آدمیوں سے آگے بڑھ جائے تو وہ راز نہیں رہتا‘‘۔ لہذا جب عاقدین دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں، یعنی عاقدین اور دو گواہ مجلس نکاح میں موجود ہوں، تو یوں یہ نکاح کی خبر کامعاملہ دو افراد سے آگے بڑھ جاتا ہے اور اسی قدر سے اعلان حاصل ہوجاتا ہے۔ اسی اصول پر جب کوئی شخص دو افراد کے سامنے گناہ کبیرہ ایک بار بھی کرلے یا گناہ صغیرہ کا اصرار کرے، یا دو افراد کو اپنے اس گناہ کے بارے میں خود سے بتادے تو اس کے گناہ کا راز محض اس کی ذات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کی اپنی ذات کو شامل کرکے مزید دو افراد کو اس کا گناہ معلوم ہوجائے گا، تو یوں گناہ کا راز دو سے بڑھ کر ٹوٹ جائے گا اور اعلان کا ادنیٰ درجہ حاصل ہوجائے گا۔
فسق کی لغوی، اصطلاحی تعریف کے بارے میں موسوعہ فقہیہ کویتیہ اور التعریفات الفقہیہ میں ہے:
’’واللفظ للاول: الفاسق في اللغة: من الفسق وهو في الأصل خروج الشيء من الشيء على وجه الفساد، ومنه قولهم: فسق الرطب: إذا خرج عن قشره.ويطلق على: الخروج عن الطاعة، وعن الدين، وعن الاستقامة.وفي الاصطلاح: الفاسق هو المسلم الذي ارتكب كبيرة قصدا، أو صغيرة مع الإصرار عليها بلا تأويل‘‘
ترجمہ: لغت میں فاسق، فسق سے ہے اور فسق تو وہ اصل میں کسی چیز کا دوسری چیز سے فساد کے طور پر نکل جانا ہے اور اسی میں سے ان کا کہنا ہے: کھجور فاسق ہوئی، جب وہ اپنے چھلکے سے باہر نکل آئے۔ اور اسے اطاعت، دین اور استقامت سے نکلنے پر بھی کہا جاتا ہے۔ اور اصطلاح میں فاسق وہ مسلمان ہے جس نے جان بوجھ کر کبیرہ گناہ کیا یا صغیرہ گناہ پر بغیر کسی تاویل کے اصرار کیا۔ (موسوعہ فقھیہ کویتیہ، جلد36، صفحہ266، 265، مطبوعہ دار الصفوة، مصر)
کبیرہ گناہ ایک بار بھی اور صغیرہ پر اصرار کرنا، چاہے یہ خفیہ ہو یا سب کے سامنے، فاسق کردے گا، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت ا مام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’گناہ کبیرہ خفیہ ہو یا اعلانیہ فاسق کردینے میں برابر ہے، مگر ایسا خفیہ جس پر بندے مطلع نہ ہوں بندے اس پر حکم نہیں کرسکتے کہ بے جانے حکم کیونکر ممکن‘‘۔ ( فتاوی رضویہ، جلد6، صفحہ486، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چُھپ کر کرتا ہو، معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ، اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب۔ (فتاوی رضویہ، جلد6، صفحہ601، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
ادنی درجے کا اعلان دو لوگوں کے سامنے ہونے سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، فقہائے کرام نے نکاح میں دو گواہوں کی موجودگی کو علی الاعلان نکاح کرنا فرمایا۔چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’وما روي أنه نهى عن نكاح السر فنقول: بموجبه لكن نكاح السر ما لم يحضره شاهدان فأما ما حضره شاهدان فهو نكاح علانية لا نكاح سر إذ السر إذا جاوز اثنين خرج من أن يكون سرا قال الشاعر:
وسرك ما كان عند امرئ ... وسر الثلاثة غير الخفي
وكذلك قوله: صلى الله عليه وسلم «أعلنوا النكاح» لأنهما إذا أحضراه شاهدين فقد أعلناه وقوله: صلى الله عليه و سلم ولو بالدف ندب إلى زيادة علانة وهو مندوب إليه‘‘
ترجمہ: اور جو یہ روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفیہ نکاح سے منع فرمایا، تو ہم کہتے ہیں: اس روایت کا تقاضا بھی یہی ہے (کہ نکاح میں گواہوں کی موجودگی شرط ہے کیونکہ)خفیہ نکاح تووہ ہے جس میں دو گواہ حاضر نہ ہوں۔ رہا وہ نکاح جس میں دو گواہ موجود ہوں تو وہ علانیہ نکاح ہے، خفیہ نکاح نہیں، کیونکہ راز کی بات جب دو آدمیوں سے بڑھ جائے، تو وہ راز نہیں رہتا۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے: تمہارا راز وہی ہے جو ایک ہی شخص کے پاس ہو (یعنی تجھے معلوم ہواور تیرے علاوہ ایک شخص کو)۔ اور تین لوگوں (یعنی تیرے علاوہ مزید دو لوگوں) کے پاس راز پوشیدہ نہیں رہتا۔اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کا فرمان: ’’نکاح کو اعلان کے ساتھ کرو‘‘، کیونکہ جب وہ دونوں (عاقدین) دو گواہ حاضر کرلیں تو انہوں نے اعلان کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ’’اگرچہ دف کے ذریعے ہی سہی‘‘ (یہ) مزید اعلان کی ترغیب ہے، اور یہ مستحب ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد2، صفحہ353، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
اعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’جن جن لوگوں کے سامنے گناہ کیا ہے ان سب کے مواجدہ (موجودگی) میں توبہ کرے مگر یہ کثرت مجمع کی حالت میں مطلقا اور بعض صورتیں ویسے بھی حرج سے خالی نہیں اور حرج مدفوع بالنص ہے تاہم اس قدر ضرور چاہئے کہ مجمع توبہ مجمع گناہ کے مشابہ ہو سب میں ادنٰی درجہ کا اعلان اگر چہ دو کے سامنے بھی حاصل ہوسکتا ہے۔
کما اجاب علماؤنا تمسک الامام مالک فی اشتراط الاعلان بحدیث اعلنوا النکاح ان من اشھد فقد اعلن کما فی مختصر الکرخی ومبسوط الامام محرر المذھب وغیرھما۔
جیسا کہ ہمارے علمائے کرام نے ’’اعلنو النکاح‘‘والی حدیث سے نکاح کیلئے اعلان کو شرط قرار دینے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے استدلال کا جواب دیا کہ جو شخص اپنے نکاح پر(دو لوگوں کو) گواہ بنادے، تو اس نے اعلان کردیا جیسا کہ مختصر کرخی اور محرر مذہب(مذہب تحریر کرنے والے) امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی مبسوط اور ان کے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکورہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد21، صفحہ145، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
یہاں یہ یاد رہے کہ یہاں ایک اصولی اور اجمالی جواب دیا گیا ہے جبکہ گناہوں کی مختلف صورتوں میں فاسق معلن کا اطلاق کرنے میں مختلف شقیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1019
تاریخ اجراء: 23 جمادی الاخری1447ھ/15 دسمبر 2025ء