الو کا گھر میں بیٹھنا منحوس ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا گھر میں الو کے بیٹھنے سے مصیبت آتی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہمارے ہاں ایک بات مشہور ہے، کہ الو جس گھر میں آ کر بیٹھتا ہے، اور بولتا ہے، اس گھر پہ مصیبت آتی ہے، کیا یہ بات درست ہے ؟
جواب
کسی گھر، علاقے، یا ملک وغیرہ پر، آفت و مصیبت کا آنا ، اللہ پاک کے حکم سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی پرندے، یا جانور کے بیٹھنے، یا بولنے وغیرہ کی وجہ سے، لہذا الو کے بیٹھنے یا بولنے کو مصیبت کا سبب نہ سمجھا جائے، کہ یہ بد شگونی ہے، اور بدشگونی کفار کا طریقہ ہے، اسلام میں بدشگونی لیناممنوع ہے۔
الله تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ﴿مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ ترجمہ: کوئی مصیبت نہیں پہنچتی، مگر اللہ کے حکم سے۔ (القرآن الکریم، پارہ 28، سورۃ التغابن، آیت11)
حدیث پاک میں ہے ”ثلاث لم تسلم منها هذه الأمة: الحسد والظن والطيرة، ألا أنبئكم بالمخرج منها! إذا ظننت فلا تحقق، وإذا حسدت فلا تتبع، وإذا تطيرت فامض‘‘ ترجمہ: تین خصلتیں اس امت سے نہ چھوٹیں گی، حسد، بدگمانی، اور بدشگونی، کیا میں تمہیں ان کا علاج نہ بتادوں، جب تمہیں بد گمانی ہو، تو اس پر کاربند نہ ہو، اور جب حسد ہو، تو محسود پر زیادتی نہ کرو، اور جب بدشگونی آئے، تو کام کو جاری رکھو۔ (کنز العمال، ج 16، ص 27، 28، رقم الحدیث 43789، مؤسسة الرسالة، بیروت)
حدیثِ پاک میں ہے: ”إن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم كان يعيب الطيرة وينهى عنها“ ترجمہ: رسولِ پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بدشگونی کو ناپسند فرماتے اور اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (الجامع لابن وھب، صفحہ 754، رقم الحدیث 669، مطبوعہ ریاض)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5000
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء