کام نکلوانے کے لئے مٹھائی کھلانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پینڈنگ بلز سائن کروانے کے لئے ٹیچر کا پرنسپل کو مٹھائی کھلانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں ایک گورنمنٹ ادارے میں ٹیچر ہوں، میرے کچھ بلز پینڈنگ میں ہیں، جو پرنسپل سے سائن ہوکر جمع ہونے ہیں، اس کے بعد مجھے وہ رقم مل سکے گی، کسی نے مجھے سمجھایا ہے کہ آپ انہیں مٹھائی لا کر دیں، اور ریکویسٹ کریں کہ سائن کردیں، تاکہ آپ کا کام ہو جائے، کیا ایسا کرنا، جائز ہے، یا یہ رشوت ہے ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا دستخط کروانے کے لئے پرنسپل کو مٹھائی دینا جائز نہیں، اور یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اپنا کام نکلوانے کے لئے جو چیز دی جائے، وہ رشوت ہوتی ہے۔ اور رشوت کا لین دین اسلام میں ناجائز و حرام، اور باعثِ لعنت فعل ہے؛ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے رشوت دینے والے، اور لینے والے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: ﴿سَمّٰعُونَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ’’بہت جھوٹ سننے والے، بڑے حرام خور ہیں۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 42)
اس آیتِ کریمہ کے تحت حضرت علامہ ابو بکر احمد الجصاص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اتفق جميع المتأولين لهذه الآية على أن قبول الرشا محرم و اتفقوا على أنه من السحت الذي حرمه الله تعالى" ترجمہ: اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تمام مفسرین نے اتفاق کیا ہے کہ بے شک رشوت کا قبول کرنا حرام ہے اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا کہ رشوت اُس سُحت میں سے ہے، جسے اللہ پاک نے حرام فرمایا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 4، صفحہ 85، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
حضرت عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”لعن رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم الراشی و المرتشی“ ترجمہ: رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہٖ و سلم) نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی۔ (سنن ابی داؤد، جلد 3، صفحہ 300، رقم الحدیث 3580، المكتبة العصرية، بیروت)
رشوت کی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ امین بن عمر ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”الرشوۃ بالکسر: ما یعطیہ الشخص الحاکم و غیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید“ ترجمہ: ’’رشوت‘‘ (راءکے) کسرہ کے ساتھ اس چیز کا نام ہے، جو کوئی آدمی، حاکم یا اس کے علاوہ کو اس غرض سے دے، کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کردے، یا اسے اس کام پر اُبھارے، جو رشوت دینے والا چاہتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 8، صفحہ 42، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "رشوت لینا مطلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے، رشوت ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4958
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم1447ھ/14 اپریل 2026ء