logo logo
AI Search

قرعہ اندازی والی انعامی اسکیم جوا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انعامی اسکیم اور جوئے کی شرعی حیثیت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی موبائل کی دوکان ہے وہ ہر مہینے ایک قیمتی ٹچ موبائل کی قرعہ اندازی کرتا ہے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ زید نے سو روپے انٹری فیس رکھی ہوئی ہے جو شخص اس کو سو روپے دیتا جاتا ہے اس کا نام قرعہ اندازی کی لسٹ میں شامل کردیتا ہے اس طرح سینکڑوں کے حساب سے افراد اس کے پاس آتے ہیں پھر جن کا نام قرعہ اندازی کی لسٹ میں شامل ہوتا ہے مہینے کے آخر میں ان کے نام کی پرچیاں بنا کر اس سے پرچی اٹھاتا ہے جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلتا ہے اس کو ٹچ موبائل دےدیتا ہے اور بقیہ کی رقم اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ قرعہ اندازی شرعا درست ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زید کا مذکورہ طریقہ کے ساتھ موبائل کی قرعہ اندازی کرنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، کیونکہ مذکورہ انعامی طریقہ کار جوا ہے اور جوئے کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے، قرآن کریم میں اسے شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔

اس کے جواہونے کی تفصیل یوں ہے کہ جس کا نام نکلا اس کو تو موبائل فون ملے گا، اور جن کا نام نہیں نکلے گا ان کے سو روپے ضائع ہو جائیں گے۔ تو یہ اپنا مال خطرے پر پیش کرنا ہے کہ یا تو زیادہ مال ملے گا یا اپنا مال بھی چلا جائے گا، اور یہی جوا ہے۔ لہٰذا اس ناجائز و حرام کام میں شامل تمام افراد پر یہ کام چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس فعل سے سچی توبہ کرنا اور آئندہ اس برے کام سے باز رہنا بھی ضروری ہے۔ نیز اس طریقے سے حاصل شدہ موبائل اور پیسوں وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ وہ ان کے مالکان کو واپس کیے جائیں یا جیسے بنے ان سے معاف کروالیے جائیں، وہ نہ ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کیے جائیں۔ اور جن لوگوں کا پتا کسی طرح نہ چلے نہ ان کا نہ ان کے ورثاء کا تو ان لوگوں کا مال ان کی طرف سے خیرات کردے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2026ء