اللہ ورسول کو گواہ بنا کر جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ ورسول کو گواہ بنا کر کسی سے کہنا کہ جھوٹ نہیں کہوں گا، پھر جھوٹ بولنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی کسی سے یہ جملہ کہے کہ میں اللہ و رسول کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے کبھی بھی کچھ پوچھیں گے، تو میں جھوٹ نہیں بولوں گا، لیکن پھر وہ جان بوجھ کر یا غلطی سے جھوٹ بول دے، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟
جواب
بلاوجہِ شرعی جھوٹ بولنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، جس سے بچنا ہر قبر و آخرت کے فکرمند مسلمان پر لازم و ضروری ہے اور یہ جملہ ’’اللہ اور رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو گواہ بناتا ہوں ‘‘بات کو مزید سخت اور مؤکد کردیتا ہے ، ایسی صورت میں تو اور زیادہ بچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ نیز بلاوجہ ہر بات پر’’ اللہ اور رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو گواہ بناتا ہوں ‘‘ کہنا مناسب نہیں ، اس سے بھی بچنا چاہیئے۔ تاہم جھوٹ اگرچہ کبیرہ گناہ ہے اور جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے ، اور بندہ جہنم کی آگ کا حقدار ٹھہرتا ہے نیز اس پر توبہ و استغفار کرنا اور جھوٹ بولنے سے بچنا شرعاً لازم ہے لیکن صرف جھوٹ بولنے کے سبب بندہ دائرہ سے خارج نہیں ہوتا کہ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہو ۔
قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ“
ترجمہ کنزالعرفان :اور ان کےلیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے ۔ (پارہ01،سورۃ البقرہ،آیت 10)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے ۔ ‘‘ (تفسیر صراط الجنان ، جلد 01،صفحہ 82، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
سنن ابی داؤد میں ہے:
”إياكم والكذب، فإن الكذب يهدی إلى الفجور، وإن الفجور يهدی إلى النار“
ترجمہ :جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد،ج 04،ص 297،المکتبۃ العصریۃ ،بیروت)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2387
تاریخ اجرا: 18صفرالمظفر1447ھ/13اگست2025ء