logo logo
AI Search

داڑھی مونڈنے کے بعد توبہ قبول ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

داڑھی مونڈے کی توبہ قبول ہونے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر انسان نے شروع سے داڑھی نہیں رکھی مگر بعد میں رکھ لی تو کیا یہ قابلِ قبول ہے ؟

جواب

جی ہاں! اگر شریعت مطہرہ کی مقرر کردہ حد یعنی ایک مشت تک داڑھی رکھ لی ہے، تو یقینا قابلِ قبول ہے، البتہ! جن ایام میں ایک مشت سے کم کروائی، یا بالکل ہی منڈوا لی تھی، ان ایام میں گناہ گار ہوئے، اس سے توبہ بھی کریں۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔ (پارہ 25، سورۃ الشورٰی، آیت 25)

داڑھی سے متعلق بخاری شریف میں ہے "عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب۔وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ" ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ، اور مونچھیں پست کرو۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، جب حج یا عمرہ کرتے، تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے، اور جو مٹھی سے زائد ہوتی، اسے کاٹ دیتے تھے۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، جلد 2، صفحہ 875، مطبوعہ: کراچی)

امام کمال الدین، ابن ہمام علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ”واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد“ ترجمہ: داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا۔ ( فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 352، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: "داڑھی کترواکر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 98، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4998
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء