فری لانسنگ کیلئے فیک ریویوز لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فری لانسر کا اپنے کام کو پروموٹ کرنے کے لئے جھوٹے ریویوز لینا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سر، میں 2017 سے فری لانسنگ کر رہا ہوں اور یہی میرا ذریعۂ معاش ہے، اسی حوالے سے آپ سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں۔ فائیور اور دیگر فری لانس پلیٹ فارمز پر، گگز کو پروموٹ کرنے کے لیے لوگ فیک ریویوز لیتے ہیں، میں بھی فیک ریویوز لیتا ہوں، جس کی وجہ سے ہماری گگ کلائنٹس کو نظر آتی ہے، اور وہ ہم سے کام کے حوالے سے رابطہ کرتے ہیں، پھر ہم ان کی ضرورت کو سمجھ کر ان سے کام لیتے ہیں، میں اپنی گرافک ڈیزائن کی سروسز کلائنٹس کو %100 اصل اور اچھی کوالٹی کے ساتھ فراہم کرتا ہوں، اور کلائنٹس عموماً %100 مطمئن ہوتے ہیں، اگر وہ مطمئن نہ ہوں، تو ان کے پاس کام منسوخ کرنے کا اختیار بھی ہوتا ہے، زیادہ تر کلائنٹس امریکہ اور برطانیہ سے ہوتے ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ: کیا گگ کو پروموٹ کرنے کے لیے اس پر فیک ریویوز لینا جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ اسی وجہ سے گگ کلائنٹس کو نظر آتی ہے، جس سے کلائنٹ کام دیتا ہے، ورنہ گگ نظر نہیں آتی، اور کام آنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر کام آتا ہی نہیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں بغیر کسی سے کام کروائے، اس سے اپنے کام کے اچھے ہونے کا ریویو لینا، دھوکہ دینا ہے، اور مسلمان و کافر ہر کسی کو دھوکہ دینا، سخت ناجائز و گناہ، اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، لہذا اس سے بچنا لازم ہے۔ دھوکے کے متعلق صحیح مسلم میں ہے عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول اللہ، قال:أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني ترجمہ: ر وایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم غلے کے ایک ڈھیر پرسے گزرے، تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا، آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی انگلیوں نے اس میں تری پائی، تو فرمایا: اے غلے والے یہ کیا ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! اس پر بارش ہوئی ہے۔ فرمایا: تو گیلے حصے کو تو نے اوپر کیوں نہیں کردیا، تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے۔ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 99، حدیث 102، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ حسين بن محمود بن حسن شیرازي حنفی علیہ الرحمۃ (متوفى 727ھ) المفاتیح فی شرح المصابیح میں فرماتے ہیں: "(الغش): ستر حال شيء على أحد؛ يعني: إظهار شيء على خلاف ما يكون ذلك الشيء في الباطن، كهذا الرجل؛ فإنه جعل الحنطة المبلولة في الباطن و اليابسة على وجه الصبرة، ليرى المشتري ظاهر الصبرة و يظن أن جميع الصبرة يابس، فهذا الفعل هو الغش و الخيانة، و هو محرم؛ لأنه إضرار بالناس" ترجمہ: غش کا معنی ہے شے کی حالت کسی پر چھپانا، یعنی کسی شے کو اس کے خلاف ظاہر کرنا جو اس شے کی حقیقت ہے جیسا کہ یہ شخص کہ اس نے تر گندم کو نیچے اور سوکھی گندم کو ڈھیر کے اوپر رکھا تاکہ خریدنے والا ڈھیر کا اوپر والا حصہ دیکھے اور یہ گمان کرے کہ پوری گندم سوکھی ہوئی ہے، لہذا یہ فعل دھوکہ اور خیانت ہے اور یہ حرام ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو نقصان پہچانا ہے۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح، جلد 3، صفحہ 438، دار النوادر، کویت)
دھوکے کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، ج 10، ص 96، دار المعرفۃ، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4942
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447ھ / 08 اپریل 2026ء