ناچ گانے کے پروگرام میں پیسے دینا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناچ گانے کے پروگرام میں پیسے شامل کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کسی لڑکی (جس کا سوال ہے) کے کالج میں پروگرام ہے، جس کے لیے کلاس کے سبھی بچوں کو پیسے دینے ہیں، پیسوں کا استعمال تین چیزوں میں ہوگا، (1) جو بچے پروگرام میں شامل ہیں، انہیں کھانا کھلانے میں، (2) سجاوٹ میں، (3) ناچ گانا یعنی ڈی جے لگانے میں (جو کہ پروگرام کا حصہ ہے)۔ انتظام کرنے والے ہندو ہیں، اس لیے ڈر ہے، کہ کچھ ایسے گانے نہ چل جائیں، جن میں کفریہ الفاظ ہوں (مطلب بھجن وغیرہ نہیں، بلکہ جیسے اکثر گانوں میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں جس پر وہ لوگ تو دھیان دیں گے نہیں)۔ اب اگر پیسے دینے کے لیے مجبور کیا جائے، جیسے ٹیچر خود آ کر بولیں، یا ساری کلاس کے سامنے پیسوں کا مطالبہ کریں، تو کیا پیسے دینے کی اجازت ہے؟ کالج میں چند ایک کے علاوہ بقیہ سب اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز ہندو ہیں، تو انہیں پیسے نہ دینے کی وجہ سمجھانا بھی مشکل ہے، جبکہ رقم بھی اتنی زیادہ نہیں، تو کیا دے سکتے ہیں؟
جواب
اولا، تو کسی ایسے کالج جس کی انتظامیہ اور ٹیچرز غیرمسلم ہوں، ان سے تعلیم حاصل کرنے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی شرعا اجازت نہیں، کہ غیر مسلم کی صحبت، اس کے ساتھ ملنا جُلنا، قلبی لگاؤ، اور خصوصا اس کو استاذ بنانے میں، ایمان کو سخت خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ غیر مسلم اپنے لیکچر کے دوران کفریات بھی کہہ دیتے ہیں، اور کبھی دینِ اسلام پر ڈائریکٹ حملہ کرتے ہیں، اور استاد کا اثر بہت جلد اور عظیم ہوتا ہے۔
ثانیا، کوئی بھی ایسا پروگرام جس میں گانے اور میوزک چلایا جائے گا اس کا انعقاد کرنا، اس میں کسی قسم کا مالی تعاون کرنا، شریک ہونا ناجائز و حرام، اور اللہ پاک کی نافرمانی والے کام ہیں۔ لہذا ایسے گناہوں بھرے پروگرام میں مالی تعاون کرنے، اور اس میں شرکت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ قرآن پاک میں ہے ﴿وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (القرآن الکریم، پارہ 7، سورۃ الانعام، آیت 68)
مذکورہ بالا آیت کے تحت علامہ ملا احمد جیون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سالِ وفات: 1130ھ/ 1718ء) لکھتے ہیں: "وان القوم الظالمین یعم المبتدع والفاسق والکافر، والقعود مع کلھم ممتنع" ترجمہ: آیت میں موجود لفظ "الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ" بدعتی، فاسق اور کافر سب کو شامل ہے اور ان تمام کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔ (تفسیراتِ احمدیۃ، سورۃ الانعام، ص 388، مطبوعہ : کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”غیر مذہب والیوں کی صحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب اس میں بگڑ گئے ہیں۔ ۔۔۔جب صحبت کی یہ حالت تو اُستاد بنانا کس دَرجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے۔۔۔ تو غیر مذہب عورت کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔" (فتاوٰی رضویہ، ج 23، ص 692، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
میوزک اور مزامیر کی مذمت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴾ ترجمہ کنزالعرفان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اور انہیں ہنسی مذاق بنالیں، ان کےلیے ذلت کا عذاب ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 21، سورۃ لقمان، آیت نمبر 6)
مذکورہ بالاآیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر ابنِ کثیر میں ہے "قال ابن عباس وجابر وعكرمة وسعيد بن جبير ومجاهد ومكحول وعمرو بن شعيب وعلي بن نديمة وقال الحسن البصري: نزلت هذه الأية (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ) في الغناء والمزامير" ترجمہ: حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مجاہد، حضرت مکحول، حضرت عمرو بن شعیب اور علی بن ندیمہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ آیت (ترجمہ: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں) گانے اور مزامیر کے متعلق نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 6، صفحہ 109، دار ابن جوزی للنشر والتوزیع)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں "لَهْوَ الْحَدِیْثِ" سے متعلق ممتاز مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔“ (صراط الجنان في تفسير القرآن، جلد 07، صفحہ 475، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے، چنانچہ سنن ابی داؤد کی حدیثِ پاک میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "ان الغناء ينبت النفاق في القلب" ترجمہ: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ (سنن ابی داود، باب کراھیۃ الغناء و المزامیر، جلد 07، صفحہ 287، دار الرسالة العالمية)
گناہ پر تعاون نہ کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 2)
مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 370ھ / 980ء) لکھتے ہیں: "نهي عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالى" ترجمہ: (اس آیتِ مبارکہ میں) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 381، دار الكتب العلميۃ، بیروت)
محیط برہانی، بحر الرائق شرح کنزالدقائق، فتح القدیر اورفتاوٰی عالمگیری میں ہے، (والنظم للاول): "الاعانۃ علی المعاصی والفجور والحث علیھا من جملۃ الکبائر" ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کےکاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 08، صفحہ 312، دار الكتب العلميۃ، بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5021
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء