ٹیٹو بنوانے کے بعد ختم کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ٹیٹو بنوا لیا تھا اب ختم نہیں ہوسکتا تو کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جسم پر سوئی یا مشین سے کھودائی کرکے اس میں سرمہ وغیرہ بھر کر اس سے ٹیٹو بنائے جاتے ہیں۔ ایک شخص نے اپنی کم علمی کی وجہ سے اپنے بازو پر ٹیٹو (بچھو) بنوایا تھا۔ پھر اسے دینی ماحول ملا۔ اب وہ چہرے پر داڑھی سجائے، پنجوقتہ نماز پڑھتا ہے، سوال یہ ہے کہ
(1) اپنے جسم پر ٹیٹو بنوانے کا کیا حکم ہے؟
(2) اگر کسی نے بنوا لیا ہو تواب اس کو ختم کروانا ضروری ہے یا نہیں ؟ جبکہ اب وہ جلد کے اندر جا چکا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے دوبارہ جلد کی چیر پھاڑ کرنی پڑے گی۔
(3) اس ٹیٹو کی موجودگی میں اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟
جواب
(1) صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور اپنے جسم پر بچھو کا ٹیٹو بنوانے کی وجہ سےسخت گناہگار ہوا۔ اس پر اپنے اس گناہ سے سچی پکی توبہ کرنا لازم ہے، کیونکہ اپنے جسم پر سوئی یا مشین سے کھودائی کروا کر، اس میں سرمہ وغیر ہ بھروا کر اس سے بچھو کا ٹیٹو بنوانا، ناجائز و حرام ہے کہ یہ تغییر لخلق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں رد وبدل کرنا، اپنے جسم کو بلاوجہ شرعی ایذا دینا اور اپنے جسم پر جاندار کی تصویر بنوانے جیسےحرام افعال کا مجموعہ ہے کہ ان سب کاموں سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے۔
تغییر لخلق اللہ شیطانی کام ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ﴿وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ﴾ ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ عزوجل کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔ (پارہ 5، سورہ نساء، آیت 119)
اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر قرطبی، جلد 5، صفحہ 392، تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 428 اور تفسیر ابن عطیہ میں ہے: واللفظ للآخر: ”قال ابن مسعود والحسن: ھی إشارۃ إلی الوشم وما جری مجراہ من التصنع للحسن“ ترجمہ: حضرت ابن مسعود اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : یہ گودنے کی طرف اشارہ ہے اور جو اس کے قائم مقام حسن حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ (تفسیر ابن عطیۃ، جلد 2، صفحہ 114، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علی وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کھال گودنے اور گدوانے والی، ابروکے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لئے دانتوں میں مصنوعی فاصلہ بنانے والی اور بناوٹ خداوند میں ردوبدل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، جلد 2، صفحہ 404، مطبوعہ لاھور)
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: ”وھو غرز إبرۃ أو مسلۃ ونحوھما فی ظھر الکف أو المعصم أو الشفۃ وغیر ذلک من بدن المرأۃ حتی یسیل منہ الدم ثم یحشی ذلک الموضع بکحل أو نورۃ أو نیلۃ .....وسواء فی ھذا کلہ الرجل والمرأۃ۔ملتقطاً“ یعنی: سوئی وغیرہ کو ہتھیلی یا کلائی کی پشت یا ہونٹ وغیرہ عورت کے بدن کے کسی حصہ پر گاڑنا، حتی کہ اس سے خون بہنا شروع ہو جائے، پھر اس جگہ کو سرمہ یا نورہ وغیرہ کے ذریعے بھردیا جائے .....اور ان تمام باتوں میں مرد وعورت برابر ہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب التفسیر القرآن، جلد 19، صفحہ 225، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت )
بلا اجازت شرعی انسان کا خود اپنے آپ کو تکلیف و ایذا دینا بھی گناہ ہے۔ چنانچہ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد الساری لشرح البخاری میں فرماتے ہیں: ”أن جنایۃ الإنسان علی نفسہ کجنایتہ علی غیرہ فی الإثم، لأن نفسہ لیست لہ ملکا مطلقابل ھی للہ فلا یتصرف فیھا إلا فیما أذن فیہ“ ترجمہ: بے شک انسان کی اپنے نفس پر زیادتی گناہ ہے، جیسا کہ دوسرے پر زیادتی گناہ ہے، کیونکہ انسان اپنے نفس کا مطلقاً مالک نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، پس اس میں وہی تصرف جائز ہے جس کی اجازت دی گئی ہے۔(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، جلد 14، صفحہ 72، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
بلا وجہ شرعی جاندار کی تصویر بنانا و بنوانا یہ بھی حرام ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ”سمعت النبي صلى اللہ عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة المصورون“ ترجمہ: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب والے وہ ہیں جو تصویر بنانے والے ہیں۔ (صحیح البخاری، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، جلد 7، صفحه167، مطبوعه دار طوق النجاۃ)
(2) اگر دوائی وغیرہ کسی علاج سے اسے ختم کرنا ممکن نہ ہو، بلکہ کھال کی چیر پھاڑ کرنی پڑے گی یا زخم لگانے کی ضروت پڑے گی، تو اسے ختم نہ کیا جائے کہ شریعت مطہرہ اسے اس چیز کا مکلف نہیں بناتی۔ اس صورت میں گناہ سے بری ہونے کے لیے سچی توبہ کافی ہے۔
علامہ علی بن سلطان القاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ میں فرماتے ہیں: ”وإنما نهي عنه لأنه من فعل الفساق والجهال، ولأنه تغيير خلق الله۔۔وفي تعليق الفراء أنه يزال الوشم بالعلاج، فإن لم يمكن إلا بالجراح لا يجرح ولا إثم عليه بعد التوبة۔ ملتقطاً“ ترجمہ: اور بیشک نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نےگود نے اور گدوانے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ فساق و جہال کا کام ہے۔ اور کیونکہ یہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ چیزوں میں تبدیلی کرنا ہے۔ اور فراء کی تعلیق میں ہے کہ گودنے کو علاج کے ساتھ زائل کیا جائے، پھر اگر زخم لگائے بغیر اس کا علاج ممکن نہ ہو تو زخم نہ لگایا جائے اور توبہ کے بعد کوئی گناہ نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 5، صفحہ 1895، مطبوعہ بیروت)
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”وقد صرح به في القنية فقال: ولو اتخذ في يده وشما لا يلزمه السلخ“ ترجمہ: قنیہ میں اس کی تصریح ہے کہ اگر کسی نے اپنے ہاتھ پر گدائی کی، تو اسے اکھیڑنا لازمی نہیں۔ (رد المحتار، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 592، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”یہ غالبا خون نکال کر اسے روک کر کیا جاتا ہے، جیسے نیل گدوانا، اگر یہی صورت ہو، تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے، تو سوا توبہ و استغفار کے کیا علاج ہے مولی تعالی عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 386، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاھور)
(3) اس ٹیٹو کی موجودگی میں اس کا وضو بھی ہو جائے گا، کیونکہ ٹیٹو میں موجود سرمہ یا نیل تو جلد کے نیچے گوشت میں داخل ہو چکا ہوتا ہے اور جلد کا وہ حصہ جس کو دھونا فرض ہے اس پر ٹیٹو کا صرف رنگ اور اثر ظاہر ہوتا ہے، اس کا کوئی جرم و عین موجود نہیں ہوتا اور محض رنگ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتا۔ جیسا کہ مہندی کی رنگت مانع وضو و غسل نہیں۔
ٹیٹو کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”نقول: إن ما تداخل في اللحم لا يؤمر بغسله كما لو تشربت النجاسة في يده مثلا، وما على سطح الجلد مثل الحناء والصبغ“ ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ جو چیز گوشت میں داخل ہوگئی، اس کو دھونے کا حکم نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اگر نجاست مثلا ہاتھ میں سرایت کرجائے اور جو چیز جلد کے اوپر ہے تو وہ مہندی اور رنگ کی مثل ہے۔ (رد المحتار، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 592، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی میں ہے: ”فالمراد بذی الجرم ماتشاهد بالبصر ذاته لااثره“ ترجمہ: پس جرم والی چیز سے مراد وہ ہے جس کی ذات کا آنکھ سے مشاہدہ کیا جا سکے، نہ کہ اس کے اثر کا۔ (رد المحتار، كتاب الطهارة، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 318، مطبوعه دار الفکر، بیروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ”جد الممتار“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اقول: بل ھو مفاد المتن، لأن الحقیقۃ فی الحناء ھو الجرم، ولأن منع مجرد اللون لا یذھب الیہ وھم“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: متن میں حنا ء سے خود جرم ہی مراد و مفاد ہے کیونکہ مہندی میں وضوکے حوالہ سے کلام مہندی کے جرم کے بارے میں ہی ہے اس لئے کہ محض مہندی کے رنگ کے مانعِ وضو ہونے کی طرف تو وہم بھی نہیں جاتا۔ (جد الممتار، جلد 1، صفحہ 248، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو القاسم محمد اعظم قادری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-9436
تاریخ اجراء: 04 جمادی الثانی 1441 ھ / 30 جنوری 2020ء