کیا گناہ کا خیال آنا بھی گناہ ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا گناہ کے بارے میں صرف سوچنے سے بھی گناہ ہوتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
گناہ کے بارے میں سوچنا دو طرح کا ہے: ایک ہے دل و دماغ میں گناہ کا خیال آ جانا یا ایسے خیال کا دل میں گھر کر جانا، اس پر مؤاخذہ نہیں، نہ اس پر کوئی گناہ ہے جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے؛ کیونکہ یہ در حقیقت وسوسہ ہے جو کہ حدیث پاک کی رو سے معاف ہے۔ جبکہ دوسرا ہے دل و دماغ میں جو گناہ کا خیال آیا، اسے کر گزرنے کا عزم کرنا، اس پر قائم رہنا اور اس کے حوالے سے پلاننگ کرنا کہ یوں یہ گناہ کروں گا، تو یہ سوچنا بذات خود گناہ ہے؛ کیونکہ یہ قصد معصیت ہے اور یہ اعمال قلوب سے ہے جس پر مواخذہ ہوگا۔ ہاں اگر بندہ یوں گناہ کا عزم کرنے کے بعد اس پر نادم ہوا اور اس سے سچی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس گناہ کو معاف فرما دیتا ہے۔
صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند احمد، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے: و اللفظ للبخاري عن أبي هريرة رضي اللہ عنه قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: إن اللہ تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل أو تكلم“ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے میری امت سے ان باتوں کو درگزر فرما دیا ہے جن کا ان کے دلوں میں وسوسہ آتا ہے، جب تک کہ وہ (ان پر) عمل نہ کریں یا کلام میں نہ لے آئیں۔ (صحيح البخاري، كتاب العتق، باب الخطإ والنسيان . . . الخ، جلد 2، صفحہ 894، حدیث 2391، دار ابن كثير، دمشق)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: برے خیالات پر پکڑ نہیں، یہ اس امت کی خصوصیت ہے، پچھلی امتوں میں اس پر بھی پکڑ تھی۔ خیال رہے کہ برے خیالات اور ہیں، برا ارادہ کچھ اور، برے ارادے پر پکڑ ہے حتی کہ ارادۂ کفر، کفر ہے۔ شیخ عبد الحق (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں کہ جو برا خیال دل میں بے اختیار اچانک آ جاتا ہے، اسے ہاجس کہتے ہیں، یہ آنی فانی ہوتا ہے، آیا اور گیا، یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا، ہم کو بھی معاف۔ لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے، اُن پر معاف نہ تھا، اور اگر اس (برے خیال) کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہو اسے ھمّ کہا جاتا ہے، اس پر بھی پکڑ نہیں، اور اگر اس کے ساتھ کر گزرنے کا ارادہ بھی ہو تو وہ عزم ہے، اس کی پکڑ ہے۔... (فرمایا: جب تک کہ وہ عمل نہ کریں یا کلام میں نہ لے آئیں) یعنی قولی گناہ میں کلام کا اعتبار ہے اور فعلی میں کام کا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 81، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)
شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) لکھتے ہیں: و ههنا قسم آخر و هو العزم وهو توطين النفس على المعصية وعقد القلب بها والتهالك عليها بحيث لا يمنعه عنها إلا عدم تهيؤ الأسباب من خارج و ليس في نفسه مانع و كراهة و نفرة منها و يؤاخذ عليه؛ لأنه من أعمال القلب و العبد مؤاخذ عليها“ ترجمہ: اور یہاں ایک اور قسم ہے اور وہ عزم ہے، یعنی نفس کو گناہ پر جما لینا اور دل کو اس پر باندھ لینا اور اس پر اس طرح ٹوٹ پڑنا کہ اسے اس گناہ سے صرف خارجی اسباب کا مہیا نہ ہونا ہی روک رہا ہو، جبکہ اس کے اپنے نفس میں اس گناہ سے کوئی روک، کراہت اور نفرت نہ ہو، اور اس پر مواخذہ ہوگا؛ کیونکہ یہ دل کے اعمال میں سے ہے اور بندہ دل کے اعمال پر مواخذہ دار ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، كتاب الایمان، باب الوسوسة، جلد 1،صفحہ 315، دار النوادر، دمشق)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: قصد معصیت خود معصیت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 342، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: فاسد خیالات گناہ کا باعث بن سکتے ہیں، لہذا برے خیالات سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن جب تک ان خیالات پر بالعزم ارادہ نہ کیا ہو یا ان پر عمل نہ کیا، اس وقت تک گناہ کا اطلاق ان پر نہ ہوگا۔ ( وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 151، بزم وقار الدین، کراچی)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں: ایک بطور وسوسہ کے اور ایک بطورِ عزم و ارادہ کے۔ وسوسوں سے دل کو خالی کرنا انسان کی قدرت میں نہیں لیکن آدمی انہیں برا سمجھتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں کرتا، ان کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں، اس پر مواخذہ نہیں۔ . . . اور گناہ میں حکم یہ ہے کہ گناہ کا عزم کر کے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد و ارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کو میسر نہ آ سکیں اور مجبوراً وہ اس کو نہ کر سکے تو اکثر علما کے نزدیک اس سے مواخذہ کیا جائے گا۔ امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہی مؤقف ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ آیت ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-﴾ ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ (سورۂ نور: 19) نیز اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔ (در منثور) ہاں اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائے گا۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 426۔427، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1272
تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026ء