logo logo
AI Search

ڈائری پر جاندار کی تصویر بنانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ڈائری میں خوبصورتی کے لیے جاندار کی تصویر بنانا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ لوگ بازار سے بالکل سادہ ڈائریاں خرید کر اس پر درود پاک لکھتے ہیں اور پھر اسے خوبصورت بنانے کیلئے اس پر مختلف ڈرائینگز (Drawings) بناتے ہیں جس میں پھول وغیرہ کے ساتھ ساتھ جاندار مثلا چڑیا، گھوڑا، مچھلی وغیرہ کی تصویریں بھی بناتے ہیں، بعض تصویروں میں چہرہ واضح ہوتا ہے، جبکہ بعض میں چہرہ واضح نہیں ہوتا، ان دونوں طرح کی تصویروں کے حوالے سے رہنمائی فرمادیں کہ خوبصورتی کے لیے ان کا بنانا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

قوانین شرعیہ کی رُو سے ڈائری وغیرہ کسی بھی چیز پر بلا عذرِ شرعی جاندار کی ایسی تصویر بنانا جس میں اس کا چہرہ واضح ہو، ناجائز  و حرام ہے۔ احادیث میں ایسی تصاویر بنانے پر سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں۔ البتہ جاندار کی ایسی تصویر جس میں اس کا چہرہ واضح نہ ہو، اس کا بنانا شرعا جائز ہے کہ تصویر درحقیقت چہرے کا ہی نام ہے، جب وہ نہ رہے تو تصویر جاندار کی نہیں رہتی، بلکہ درخت، پتھر وغیرہ بے جان چیزوں کے مشابہ ہوجاتی ہے، اور شریعت مطہرہ میں ایسی تصویر بنانے کی ممانعت نہیں۔

لہذا ڈائری پر کسی بھی جاندار کی ایسی تصویر بنانا کہ جس میں اس کا چہرہ واضح ہو، چاہے ڈائری کی خوبصورتی کے لیے ہی سہی، شرعا ناجائز و حرام ہوگا، البتہ ایسی تصویر بنانا جس میں چہرہ واضح نہ ہو، شرعا کوئی حرج نہیں۔

صحيح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے: ”عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ان الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ یقال لھم احیوا ما خلقتم“ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ جو تصویریں تم نے بنائی تھیں، اب اُن میں جان ڈالو۔ (صحیح البخاری، ص 1367، حدیث: 7557، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے: ’’عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ان أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون‘‘حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تصویر بنانے والے، قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والے لوگوں میں سے ہوں گے۔ (صحیح مسلم، ص 840، حدیث: 2109، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

جاندار کی تصویر بنانے کے متعلق مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”قال اصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لانه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور فی الاحاديث، سواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو غير ذلك“ ہمارے اصحاب اور دیگر علماء کرام نے فرمایا: جاندار کی تصویر بنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ اس پر احادیث میں شدید قسم کی وعید ذکر کی گئی ہیں۔ خواہ وہ تصویر کسی کپڑے پر بنائی ہو، یا قالین یا درھم و دینار وغیرہ پر۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 8، ص 323، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: "وأما اتخاذ المصور فيه صورة حيوان فإن كان معلقا على حائط أو ثوبا ملبوسا أو عمامة ونحو ذلك مما لا يعد ممتهنا فهو حرام وإن كان في بساط يداس ومخدة ووسادة ونحوها مما يمتهن فليس بحرام ولافرق فى هذا كله بين ماله ظل وما لا ظل له هذا تلخيص مذهبنا في المسألة وبمعناه قال جماهير العلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم وهو مذهب الثوري ومالك وأبي حنيفة وغيرهم" اور رہا اس چیز کا استعمال جس میں جاندار کی تصویر ہو، تو اگر وہ تصویر دیوار پر لٹکی ہوئی ہو یا ایسا کپڑا ہو جو پہنا جاتا ہو یا عمامہ وغیرہ ہو، یعنی ایسی چیزیں جو قابلِ اہانت نہیں سمجھی جاتیں، تو یہ حرام ہے۔ اور اگر وہ تصویر ایسے بچھونے، گدے، تکیے یا اسی طرح کی چیزوں میں ہو جو استعمال میں آ کر روندھی جاتی ہیں، تو وہ حرام نہیں ہے۔ اور اس تمام معاملے میں اس بات کا کوئی فرق نہیں کہ تصویر سایہ دار ہو یا بے سایہ۔یہ ہمارے مذہب کا خلاصہ ہے، اور صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد جمہور علماء اسی مفہوم کے قائل ہیں، اور یہی امام ثوری، امام مالک اور امام ابو حنیفہ وغیرہ کا مذہب ہے۔(شرح صحیح مسلم للنووی، ج 07، ص 342، 343، دار الحدیث، القاھرہ)

سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’فوٹو ہو یا دستی تصویر، پوری ہو یا نیم قد، بنانا، بنوانا سب حرام ہے۔۔۔ کہ تصویر فقط چہرہ کا نام ہے۔۔۔امام اجل ابو جعفر طحاوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں: الصورۃ ھو الراس واللہ تعالی اعلم۔ ملخصا“ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 568، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ”حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ذی روح کی تصویر بنانا، بنوانا، اعزازاً اپنے پاس رکھنا سب حرام فرمایا ہے اور اس پر سخت سخت وعیدیں ارشاد کیں اور ان کے دور کرنے، مٹانے کاحکم دیا؛ احادیث اس بارے میں حدِ تواترپر ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 426، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

فتح القدیر میں ہے ”فإن غير ذي الروح لا يكره كالشجر، و فيه عن ابن عباس الأثر قال للمصور: إن كنت لا بد فاعلا فعليك بتمثال غير ذي الروح“ غیر ذی روح کی تصویر بنانا مکروہ نہیں جیسے درخت، اور اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا اثر (روایت) موجود ہے، آپ نے تصویر بنانے والے سے کہا: اگر تو نے تصاویر بنانی ہی ہیں تو غیر ذی روح کی تصویریں بنا۔ (فتح القدیر، ج 1، ص427، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں حدیث پاک فیقطع فیصیر کھیاۃ الشجرۃ (آپ اس تصویر کے متعلق فرمادیں کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہو جائے)۔۔۔الخ نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ”دیکھئے جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے بھی عرض کی کہ ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم فرمادیجئے جس سے ان کی ہیأت درخت کے مثل ہو جائے حیوانی صورت نہ رہے اس کا صریح مفاد تو وہی ہے کہ بے قطع راس حکم منع نہ جائے گا کہ بغیر اس کے نہ پیڑ کی مثل ہوسکتی ہیں نہ صورت حیوانی سے خارج۔“ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 587 تا 588، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: mul-1647
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء