logo logo
AI Search

ٹینشن کی وجہ سے بیوی کو گالی دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوہر کا ٹینشن کی وجہ سے بیوی کو گالی دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا شوہر اپنی بیوی کو بلاوجہ باہر کی ٹینشن یا تنگی کی وجہ سے گالیاں دے سکتا ہے؟

جواب

کسی بھی مسلمان کو بلاوجہ شرعی گالی دینا، فسق و گناہ ہے، خواہ وہ بیوی ہو، یا کوئی اور، دینے والا ٹینشن میں ہو، یا نہیں۔ لہذا اگر شوہر نے بیوی کو گالی دی تو اس پر اس گناہ سے توبہ کے ساتھ ساتھ، بیوی سے معافی مانگنا بھی شرعا لازم ہے، کہ اس میں بیوی کو ایذا (تکلیف) دینا ہے۔

صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے ”أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: سباب المسلم فسوق“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب الایمان، ص 25، رقم الحديث: 48، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوٰی رضویہ میں ہے ”کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دینا حرام قطعی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : "سباب المسلم فسوق" رواہ البخاری ومسلم۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 21، ص 128، 127، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5014
تاریخ اجراء: 23 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 11 مئی 2026ء