اشتہارات میں میوزک یا عورت کی تصویر شامل کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایڈز بنانے میں میوزک یا عورت کی تصویر شامل کرنے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں مختلف پروڈکٹس(Product) کی تشہیر کے لئے ایڈز(Ads)بناتا ہوں۔ بسا اوقات کسٹمر (Customer) کی جانب سے ایڈز میں میوزک (Music) اور بے پردہ خواتین کی تصاویر بھی شامل کرنے کی ڈیمانڈ (Demand) ہوتی ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں کسٹمر کی ڈیمانڈ پر میوزک اور خواتین کی تصاویر ایڈز میں شامل کر سکتا ہوں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگرچہ کسٹمر کی ڈیمانڈ ہو، تب بھی آپ کا ایڈز میں میوزک اور بے پردہ خواتین کی تصاویر شامل کرنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح خود میوزک سننا اور بے پردہ خواتین کی تصاویر دیکھنا حرام ہے، یونہی دوسروں کو اس کے مواقع فراہم کرنا بھی حرام ہے، کہ یہ گناہ پر تعاون کی صورت بنتی ہے، جو ناجائز و حرام ہے۔ نیز ایسا شخص بے حیائی پھیلانےکے گناہ کا بھی مرتکب ہے اور ایسوں کے لئے قرآن مجید میں سخت وعید ہے۔ مزید یہ کہ جتنے لوگ میوزک سنیں گے یا بے پردہ خواتین کی تصاویر دیکھیں گے، انہیں تو اس کا گناہ ملے گا، لیکن اُن سب کے برابر ایسے ایڈز بنانے والے کو بھی گناہ ملے گا اور اُن کے اپنے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ لہذا بہر صورت آپ کا اس گناہوں بھرے کام سے بچنا ضروری ہے۔
بدنگاہی حرام ہے۔ چنانچہ اس سے بچنے کے حوالہ سے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(30)وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ﴾
ترجمہ: مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں۔ (پ18، س النور، آیت 30تا31)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لعن الله الناظر و المنظور اليه‘‘ ترجمہ: بدنگاہی کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (شعب الايمان، ج 10، ص 214، مطبوعہ، مکتبۃ الرشد)
میوزک حرام ہے۔ چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر والخمر والمعازف“
ترجمہ: عنقریب میری امت میں کچھ قومیں ایسی ہوں گی، جو زنا، ریشمی کپڑوں، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال ٹھہرا لیں گی۔ (صحیح بخاری، ج 7، ص 106، مطبوعہ، دار طوق النجاۃ)
مزید ارشاد فرمایا:
”ان اللہ بعثنی رحمۃ للعالمین وھدی للعالمین وامرنی ربی بمحق المعازف والمزامیر“
ترجمہ: بیشک میرے رب نے مجھے تمام جہانوں کےلئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے ہاتھ اور منہ سے بجائے جانے والے آلات توڑنے کا حکم دیا ہے۔ (مسندِ احمد، ج 36، ص 646، مطبوعہ، مؤسسۃ الرسالۃ)
گناہ کے کاموں پر تعاوُن جائز نہیں۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پ 6، س المائدہ، آیت2)
مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے والوں کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-﴾
ترجمہ: بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (پ 18، س النور، آیت 19)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ’’اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنی میں بہت وسعت ہے۔چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:۔۔حرام کاموں کی ترغیب دینا۔۔ایسی کتابیں، اخبارات، ناول، رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا، جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں۔ فحش تصاویر اور ویڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا۔ ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگا نا، لگوانا جن میں جاذبیت اور کشش پیدا کرنے کے لئے جنسی عریانیت کا سہارا لیا گیا ہو۔ حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا، ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔۔ان تمام کاموں میں مبتلا حضرات کو چاہئے کہ خدارا! اپنے طرز عمل پر غور فرمائیں، بلکہ بطور خاص ان حضرات کو زیادہ غور کرنا چاہئے، جو فحاشی و عریانی اور اسلامی روایات سے جدا کلچر کو عام کر کے مسلمانوں کے اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور بے حیائی، فحاشی و عریانی کے خلاف اسلام نے نفرت کی جو دیوار قائم کی ہے، اسے گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے۔‘‘ (تفسیرِ صراط الجنان، تحت ھذہ الآیہ، ج 6، ص 602، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ)
جتنے لوگ میوزک سنیں گے یا بد نگاہی کریں گے، ان کو اس کا گناہ ملے گا، لیکن ان سب کے برابر ایڈز بنانے والے کو بھی ملے گا۔ چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلک من اجورھم شیئا ومن دعاالی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لا ینقص ذلک من اثامھم شیئا‘‘
ترجمہ: جو کسی کو سیدھے راستے کی طرف بلائے، تو جتنے بھی لوگ اس کی پیروی کریں گے، اُن سب کے برابر اس (بلانے والے) کو بھی ثواب ملے گا اور پیروی کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو برائی کی طرف بلائے، تو جتنے بھی لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان سب کے برابر اس کو بھی گناہ ملے گا، اور پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ (صحیح مسلم، ج 4، ص 2060، مطبوعہ، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد فرحان افضل عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0289
تاریخ اجراء: 19 ذی الحج 1446 ھ/17 جون 2025ء