کیا بچوں کو گناہوں والے کارٹون دکھانے پر والدین گناہگار ہوں گے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچے کارٹون دیکھیں، توکیا والدین گناہ گار ہوں گے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بچے کارٹون دیکھتے ہیں، تو کیا اس کی وجہ سے والدین کو گناہ ہوگا؟
جواب
اگر کارٹون ایسے ہیں جس میں میوزک، بے پردگی، اخلاق بگاڑنے والے امور موجود ہیں تو والدین جب اپنی سرپرستی میں یہ کارٹون بچوں کو دکھائیں گے تو والدین پر ہی اس کا گناہ آئے گا کیونکہ بچے تو نابالغ ہیں ان پر اس کا گناہ نہیں ، لیکن والدین نے یہ گناہوں بھرے کارٹون انہیں مہیا کئے تو یہ ان کے حق میں گنا ہ ہوا۔ ہاں اگر والدین خود نہیں دکھاتے، بچہ خود سے چلا کر دیکھتا ہے تو والدین کو حتی المقدور اسے روکنا ہوگا ۔اگر حتی المقدور نہیں روکیں گے تو گناہگار ہوں گے۔ البتہ وہ کارٹون جس میں میوزک ، بے پردگی وغیرہ ناجائز امور نہیں ہیں ، وہ بچوں کو دکھائے جاسکتے ہیں جیسے کڈز مدنی چینل پر آنے والے کارٹون۔
اعلىٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لكھتے ہىں: ”بچپن سے جو عادَت پڑتی ہے کم چھوٹتی ہے تواپنے نابالغ بچوں كو اىسى ناپاكىوں سے نہ روكنا ان كے لىے معاذاللہ جہنّم كا سامان تىار كرنا اور خود سخت گناہ مىں گرفتار ہونا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت درشت خُو فرشتے مؤکل ہیں کہ اللہ کا حکم ٹالتے نہیں اور جو انہیں فرمایا جائے وہی کرتے ہیں۔ (پ۲۸، التحریم:۶) اللہ عزوجل مسلمانوں کو نیک عادتوں کی توفیق دے اور بُری عادتوں بُری باتوں سے پناہ بخشے۔ آمین ۔ واللہ سبحٰنہ و تعالیٰ اعلم“(فتاوی رضویہ ، جلد22، صفحہ 215، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2364
تاریخ اجرا: 26ذوالحجۃالحرام1446ھ/23جون2025ء