logo logo
AI Search

عریج فاطمہ نام رکھنا اور اس کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام عریج فاطمہ رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عریج فاطمہ نام رکھنا کیسا ؟

جواب

"عریج" کا معنی ہے: بلند و بالا اور "فاطمہ" شہزادیِ کونین حضرت سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ تعالی عنہا کا نام مبارک ہے، لہذا عریج فاطمہ نام رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ ہاں! بہتر یہ ہے کہ صرف "فاطمہ" نام رکھیں کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی۔

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے۔۔۔عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

عریج کے معنی کے متعلق تاج العروس اور لسا ن العرب میں ہے، (واللفظ للاول): "عرج الشیئ فھوعريج: ارتفع وعلا" (تاج العروس، جلد 6، صفحہ 94، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

القاموس الوحیدمیں ہے "العریج: بلند و بالا" (القاموس الوحید، صفحہ 1064، مطبوعہ: لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5051
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء