بحاث نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام بحّاث رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا بحاث نام رکھنا درست ہے؟
جواب
بَحّاث نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے
”بحاث بن ثعلبۃ ۔۔۔ شھد بدراً مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“
ترجمہ: بحاث بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 277، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سبل الھدی والرشاد میں ہے ”بحاث بفتح الباء و تشدید الحاء المھملۃ“ ترجمہ: بحاث باء کے زبر اور حا، کی تشدید کے ساتھ ہے۔ (سبل الھدی والرشاد، جلد 4، صفحہ 93، مطبوعہ: بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4762
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک1447ھ/21 فروری 2026 ء