مہا نام رکھنا اور اس کا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچی کا نام مہا رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بچی کا نام "مہا" Maha رکھنا کیسا ہے؟ اس نام کے کیا معنی ہیں۔ تھوڑا روشنی ڈال دیں۔
جواب
مہا، سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ”بڑا، بزرگ، معزز، عظیم، خاندانی اور شریف“ ہے اس لحاظ سے ”مہا“ نام رکھا تو جا سکتا ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔
فیروز اللغات میں ہے ”مہا: (1) بڑا، بزرگ، اعلی،معزز(2) کلاں، عظیم(3)خاندانی،شریف۔“ (فیروز اللغات، صفحہ 1385، مطبوعہ: لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں:"بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام،اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل،عثمان،علی،حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ ،فاطمہ،عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء ﷲ بخشا جائے گا۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ” نام رکھنے کے احکام “ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں،وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ نیچے دئے گئے لنک سے یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5333
تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ/28 اگست 2026ء