محمد غضنفر نام رکھنا اور اس کا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچے کا نام محمد غضنفر رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی شخص کا نام محمد غضنفر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
غضنفر کا مطلب ہے: "شیر، بہادر۔" اور اس نام کا اطلاق لفظِ محمد پہ درست بھی ہے، لہذا "محمد غضنفر" نام رکھ سکتے ہیں اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ اولاً فقط محمد نام رکھا جائے، تاکہ نامِ محمد کی فضیلت حاصل ہوجائے کہ ظاہر یہی ہے کہ نام محمد رکھنے کی فضیلت اسی صورت میں حاصل ہوگی جب تنہا نام محمد رکھا جائے، اور پھر پکارنے کے لئے غضنفر رکھ لیا جائے۔ اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ، صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ غضنفر کا معنی بیان کرتے ہوئے فیروز اللغات میں ہے ”غضنفر: شیر، بہادر۔“(فیروز اللغات (اردو)، ص 970، مطبوعہ: لاہور)
کسی نام کے شروع میں لفظِ محمد لانے کا اصول بیان کرتے ہوئے مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جس نام کے شروع میں لفظ محمد لایا جائے اگر اس نام کا اطلاق لفظِ محمد پر درست ہو، تو وہاں لفظِ محمد لانا درست ہو گا، اور اگر نام کا اطلاق لفظِ محمد پر درست نہ ہو، تو وہاں لفظِ محمد شروع میں لانا درست نہ ہو گا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم عبد الحی ہیں، لہذا محمد عبد الحی کہنا درست ہے۔ لیکن غلام آسی نہیں ہیں، اس لیے محمد غلام آسی کہنا نامناسب ہے۔“ (جہانِ مفتی اعظم، صفحہ 452، شبیربرادرز، لاہور)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔(کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے وارد ہوئے ہیں۔"(فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔"(بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء ا ﷲ بخشا جائے گا۔"(مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’ نام رکھنے کے احکام ‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ نیچے دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5331
تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ/28 اگست 2026ء