logo logo
AI Search

کیا بچے کا نام نُمَیر رکھ سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نمیر نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا نُمَیر نام رکھنا درست ہے؟

جواب

جی ہاں! نُمَیر نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کا نام ہے اور ہمیں اچھوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کی نسبت سے نام رکھنے میں ان ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہےنمیر بن اوس۔۔۔ نمیر بن الحارث۔۔۔ نمیر بن خرشۃ۔۔۔ نمیر بن عامر۔۔۔ نمیر بن عریب ۔۔۔ نمیر بن ابی نمیر(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 3، صفحہ 41، 42، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4620
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب1447ھ / 08 جنوری2026ء