logo logo
AI Search

کیا نبی پاک ﷺ معراج کی رات نعلین شریف پہن کر گئے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم معراج کی رات نعلین شریفین کے ساتھ گئے تھے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئے کے بارے میں کہ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم معراج کی رات نعلین شریف پہن کر تشریف لے گئے تھے؟

جواب

کچھ واعظین نے اپنی کتابوں میں یہ بات لکھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم معراج میں نعلین شریف پہن کر تشریف لے گئے تھے، مگر علمائے محققین و محدثین کے نزدیک ایسی روایت باطل وموضوع یعنی من گھڑت ہے۔ البتہ روایات میں برہنہ پا جانے کا بھی ذکر نہیں ہے لہذا ااس معاملے میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قا دری رحمۃ اللہ علیہ سے اسی روا یت کے متعلق سوال کیا گیا کہ یہ روا یت کیسی ہے؟ تو آپ نے فر ما یا کہ یہ روا یت محض با طل و موضوع ہے۔ (ملفو ظات اعلی حضرت، حصہ 2، ص 293، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’یہ مشہور ہے کہ شب معراج میں حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نعلین مبارک پہنے ہوئے عرش پر گئے اور واعظین اس کے متعلق ایک روایت بھی بیان کرتے ہیں، اس کا ثبوت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ برہنہ پا تھے، لہٰذا اس کے متعلق سکوت کرنا مناسب ہے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 645، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

واعظین کی بیان کردہ روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شبِ معراج نعلین شریف کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، اس کو ذکر کرنے کے بعد کچھ علمائے کرام کے نام ذکر کرتے ہوئے کہ انہوں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ابو الحسنات علامہ عبد الحی بن عبد الحلیم لکھنوی رحمۃ اللہ علیہما (متوفی: 1304ھ) آثارِ مرفوعہ میں فرماتے ہیں: ”أن هذه القصة موضوع بتمامها قبح الله واضعها ولم يثبت في رواية من روايات المعراج النبوي مع كثرة طرقها أن النبي كان عند ذلك متنعلا“ یعنی یہ پورا قصہ موضوع ہے، اللہ تعالیٰ اس کے گھڑنے والے کو رسوا کرے، اور معراجِ نبوی کی روایات کی کثرتِ طرق کے باوجود کسی بھی روایت میں یہ ثابت نہیں کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نعلین شریف پہن رکھے تھے۔ ( الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ، ذکر بعض القصص المشھورۃ، صفحہ 37- 38، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت )

اس مسئلے کی مزید تفصیل مع دلائل و عباراتِ علماء علامہ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے چپل سے متعلق فقہی، حدیثی اور لغوی مسائل پر اپنے ایک مستقل تحقیقی رسالہ ’’غایۃ المقال فیما یتعلق بالنعال‘‘ میں بیان کی ہے۔ (دیکھئے: غایۃ المقال فیما یتعلق بالنعال، الباب الثانی فیما یتعلق بالنعال النبویۃ، الفصل الثانی فی الامور المتفرقۃ. . . الخ، صفحہ 229 - 235، مطبوعہ مرکز انوار العلماء للدراسات عمان)

اسی طرح کے چند سوالات کے جواب میں مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ (متوفی: 1396ھ) اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں: ”نعلین مقدس پہنے ہوئے عرش پر جانا جھوٹ اور موضوع ہے جیساکہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے عرفانِ شریعت حصہ دوم ص: ۹ پر تحریر فرمایا ہے۔ ۔ ۔ اس روایت کے جھوٹ اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں۔ جو صاحب بیان کرتے ہیں کہ نعلین پاک پہنے عرش پر گئے، ان سے پوچھیے کہ کہاں لکھا ہے۔ (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 306، 307، مطبوعہ برکات المدینہ کراچی، ملتقطاً)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-046
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ / 03 ستمبر 2026ء