logo logo
AI Search

کوٹیشن پاس کروانے کیلئے کمیشن دینا

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کوٹیشن پاس کروانے کے لیے مینیجر کو کمیشن دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اے سی ڈک کی سروس کا کام کرتا ہوں، چند ادارے ہوتے ہیں جنہوں نے کام کروانا ہوتا ہے وہ ہم سے کوٹیشن مانگتے ہیں جس میں سروس وغیرہ کے چارجز اور مکمل تفصیل ہوتی ہے کہ ہم یہ کام اتنے روپوں میں کرکے دیں گے، میری طرح دیگر اور لوگ بھی کوٹیشن دیتے ہیں۔ ادارہ کے مینیجر وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کی کوٹیشن اوکے کردیں گے، لیکن کام کرنے کے بعد آپ کو ادارہ جو کام کی رقم دے گا اس میں سے ہم کمیشن لیں گے۔ اگر ہم کمیشن دینے پر رضا مند نہ ہوں تو وہ کسی اور کی کوٹیشن اوکے کردے گا۔ تو کیا ہم کوٹیشن اوکے کروانے کے لیے اس شرط کو مان سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس شرط پر ہم کام لے کر مینیجر کو کمیشن دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا کوٹیشن پاس کروانے کے لیے مینیجر کو پیسے دینا اور مینیجر کا یہ پیسے لینا رشوت ہے، اس کی وجہ یہ ہےکہ اپنا کام نکلوانے کے لیےکسی کو پیسے دینا رشوت کہلاتا ہے، اسی طرح جو کام اپنے منصب کی وجہ سے پہلے سے کرنا لازم ہو اس کام کے پیسے لینا بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے اور رشوت کا لین دین ناجائز و حرام ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا لازم ہے۔

ترمذی شریف میں ہے: ”لعن رسول اللہ صلَّى اللہُ عليه و سلَّم الراشي و المرتشي“ یعنی رسول اللہ صلَّی اللہُ علیہ وسلّم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔(ترمذی،3/614)

شامی میں ہے: ”الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم و غيره ليحكم له او يحمله على ما يريد“ یعنی رشوت وہ ہے جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس لیے دے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اس کی مراد پر راغب ہو۔ (رد المحتار، 8 / 34)

امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”رشو ت لینا مطلقاً حرام، کسی حا لت میں جائزنہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے د یا جا ئے، رشو ت ہے۔ یو ہیں جو اپنا کام نکلوانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشو ت ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، 23 / 597)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء