کیا توریہ کرنا گناہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
توریہ کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
توریہ کرنا یعنی اگر کوئی پوچھے کہ آپ کل آئے تھے اور وہ بولے میں آیا تھا، مراد یہ لے دو دن پہلے، تو کیا اس کو جھوٹ بولنے کا گناہ نہیں ہو گا؟
جواب
بلاحاجت توریہ کرنا، جائز نہیں، البتہ حاجت ہو تو جائز ہے، اگر بلاحاجت ہو گا تو جھوٹ کا وبال آئے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے
و يكره التعريض بالكذب إلا لحاجة كقولك لرجل كل فيقول أكلت يعني أمس فإنه كذب كذا في خزانة المفتين
ترجمہ: بلاحاجت توریہ کرنا مکروہ ہے مثلاً تمہارا کسی آدمی کو کہنا کہ کھاؤ، اور وہ کہے میں نے کھا لیا یعنی کل تو اس نے جھوٹ بولا، یونہی خزانۃ المفتین میں ہے۔ (فتاوی ھندیۃ، ج 5، ص 352، دار الفکر، بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہر معنی ہیں، وہ غلط ہیں، مگر اس نے دوسرے معنی مراد لیے، جو صحیح ہیں، ایسا کرنا بلاحاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کو کھانے کے لیے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے، یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 518، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-3567
تاریخ اجراء: 16 شعبان المعظم 1446ھ / 15 فروری 2025ء