
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
نہاتے وقت اگر پیشاب کی حاجت ہو جائے، تو کیا غسل خانے میں ایک سائیڈ پہ پیشاب کیا جا سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر غسل خانے کی زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا صحیح نظام نہ ہو تو اس صورت میں وہاں پیشاب کرنا منع ہے کہ نیچے جمع شدہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اور پھر وہاں غسل کرنے یاوضوکرنے سے یہ ناپاک پانی بدن وغیرہ پر پڑے گا۔ ہاں! اگر غسل خانے کی زمین پکی ہو اور پانی نکلنے کا صحیح راستہ بھی ہو تو وہاں احتیاط سے پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔
سنن ابی داؤد میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
لا يبولن احدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه قال احمد: ثم يتوضا فيه، فإن عامة الوسواس منه
ترجمہ: تم میں سے کوئی ہر گز غُسل خانہ میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے(احمد کی روایت میں ہے) پھر اس میں وُضو کرے کہ اکثر وسوسے اس سے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 11، رقم الحدیث 27، مطبوعہ: ھند)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: "اگر غسل خانے کی زمین پختہ ہو اور اس میں پانی خارِج ہونے کی نالی بھی ہو، تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں، اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے، لیکن اگر زمین کچّی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو، تو پیشاب کرنا سخت بُرا ہے کہ زمین نَجس ہو جائے گی اور غسل یا وضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔ یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے، اس لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی یعنی اس سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تجرِبہ ہے یا گندی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔" (مراٰۃ المناجیح ، جلد 1، صفحہ 266، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3972
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1447ھ / 30 جون 2025ء