وضو میں قبلہ رخ ہوکر کلی کرنا مکروہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قبلہ کی طرف تھوکنا منع ہے تو وضو کرتے ہوئے کلی کس طرح کریں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو کرتے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب ہے، لیکن بہار شریعت میں وضو کے مکروہات میں لکھا ہے کہ قبلہ کی طرف تھوکنا یا کلی کرنا مکروہ ہے، تو ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی وضو کرتے ہوئے قبلہ رو ہو لیکن قبلہ کی طرف کلی نہ کرے؟
جواب
بلا شبہ قبلہ کی جانب تھوکنا یا کلی کرنا مکروہ و ممنوع عمل ہے، تاہم قبلہ رو ہوکر وضو کرتے ہوئے عام طور پر یہ صورت نہیں ہوتی، کیونکہ حدیث مبارکہ اور ان کے تحت علمائے دین کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ قبلہ کی جانب تھوکنا یا کلی کرنا اسی وقت کہلاتا ہے کہ جب قبلہ کی جانب رخ ہو اور اسی رخ پر رہتے ہوئے اپنے سامنے کی سمت میں یہ عمل کیا جائے، اس کے برعکس اگر تھوکنا یا کلی کرناسامنے کی بجائے نیچے کی جانب ہوتو یہ قبلہ کی جانب تھوکنا یا کلی کرنا نہیں کہلائے گا، اگرچہ سینہ قبلہ کی جانب ہی کیوں نہ ہو۔ اور وضو میں بھی قبلہ رو ہونے کی صورت میں اگرچہ رخ قبلہ کی جانب ہوتا ہے، لیکن تھوکنے اور کلی کرنے کا عمل عموما سر جھکاکر نیچےکی طرف ہی کیا جاتا ہے، جو کہ نیچے کی جانب تھوکنا یا کلی کرنا ہے نہ کہ قبلہ کی جانب، لہٰذا یوں دورانِ وضو قبلہ رُخ ہونا اور اس کے باوجود جانبِ قبلہ تھوکنے اور کلی کرنے سے اجتناب کرنا، عملاً ممکن ہے۔
ایک حدیث پاک میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کی جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگرتھوکنے کی ضرورت پیش آ جائے، توسامنے تھوکنے کی بجائے بائیں جانب جبکہ وہاں کوئی انسان موجود نہ ہو، یا پھر (نیچے) الٹے پاؤں کی جانب تھوکا جائے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا قام أحدكم إلى الصلاة، فلا يبصق أمامه، فإنما يناجي اللہ ما دام في مصلاه، و لا عن يمينه، فإن عن يمينه ملكا، و ليبصق عن يساره (و فی روایۃصحیح ابن خزیمۃاضافۃ ان کان فارغا، أو تحت قدمه الیسری فيدفنها
جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے یعنی قبلہ کی جانب نہ تھوکے، کیونکہ جب تک وہ اپنے مصلّٰے پر ہوتا ہے،وہ اللہ سے مناجات کررہا ہوتا ہے، اور نہ ہی اپنے دائیں طرف تھوکے، کیونکہ دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے، بلکہ بائیں طرف (جبکہ اس جانب دوسرا نمازی موجود نہ ہو) یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے مٹی سےدفن کردے۔ (صحیح البخاری، ج 01، ص 91، رقم: 414 - 416، دار طوق النجاۃ) (صحیح ابن خزیمۃ، ج 02، ص 44، رقم: 876، المكتب الإسلامي – بيروت)
واضح رہے کہ مذکورہ حدیث میں بائیں قدم کی طرف تھوکنے سے مراد دراصل نیچے کی جانب تھوکنا ہے۔ بائیں قدم کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ شریعت میں دائیں جانب کو بائیں جانب پر فضیلت حاصل ہے، لہٰذا تھوکنے جیسے ناپسندیدہ عمل کو نیچے کی جانب کرتے ہوئے بھی بائیں جانب کیا جائے۔چنانچہ عمدۃ القاری اور کواکب الدراری میں ہے،
و اللفظ للدراری: فإن قلت لفظ عن يساره شامل لقدمه اليسرى فما فائدة تخصيصها بالذكر. قلت ليس شاملًا لها إذ جهة اليمين والشمال غير جهة التحت و الفوق
اگر یہ سوال کیا جائے کہ "عن يساره" (اس کے بائیں طرف) کا لفظ تو اس کے بائیں پاؤں کو بھی شامل ہے، تو پھر خاص طور پر پاؤں کا ذکر کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ اسے شامل نہیں، کیونکہ دائیں، بائیں کی سمت، اوپر اور نیچے کی سمت سے مختلف ہوتی ہے۔ (کواکب الدراری، ج 04، ص 73، دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
مذکورہ حدیث کے تحت گفتگو کرتے ہوئے علمائے دین نے صراحت فرمائی کہ اگرچہ رخ قبلہ کی جانب ہو لیکن اگر تھوکنے کا عمل نیچے کی جانب کیا جائے تو یہ جانب قبلہ تھوکنا شمار نہیں ہوگا،لمعات التنقيح میں ہے:
(و ليبصق عن يساره أو تحت قدمه) و هو و إن كان أيضًا منافيًا لحالة المناجاة، لكن أذن فيه ضرورة، و لكونه غير جهة المقابلة، و هذا في غير المسجد، قوله: (تحت قدمه اليسرى) تعظيمًا للقدم اليمنى التي في جانب اليمين الذي هو أفضل من جانب اليسار
(اور وہ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے) اگرچہ یہ بھی اللہ سے مناجات کی حالت کے خلاف ہے، لیکن اس میں ضرورت کی وجہ سے اجازت دی گئی ہے، نیز یوں تھوکنا قبلہ کی جانب تھوکنا نہیں ہوگا۔ اور یہ حکم مسجد کے علاوہ جگہ کے لیے ہے۔ یہاں خاص بائیں قدم کے نیچے تھوکنے کا ذکر دائیں قدم کی تعظیم کی وجہ سے ہے، کیونکہ دایاں پہلو بائیں پہلو سے افضل ہے۔ (لمعات التنقیح، ج 02، ص 467،دار النوادر، دمشق – سوريا)
شافعی بزرگ ابو بکر دمیاطی علیہ الرحمہ (متوفی 1310ھ) اپنی تصنیف اعانۃ الطالبین علی حل الفاظ فتح المعین میں لکھتے ہیں:
و لفظ فتح المعین بین القوسین: (و لو كان على يساره فقط إنسان بصق عن يمينه، إذا لم يمكنه أن يطأطئ رأسه، و يبصق لا إلى اليمين و لا إلى اليسار) و قوله: أن يطاطئ رأسه أي يرخي رأسه و يميله. و الظاهر أن الطأطأة المذكورة اعتبرها لأجل أن لا يكون البصاق قبل وجهه فإنه مكروه
اگر صرف بائیں جانب کوئی آدمی ہو تو دائیں جانب تھوک دے، بشرطیکہ وہ اپنا سر جھکا کردائیں بائیں کی بجائے نیچے کی جانب نہ تھوک سکتا ہو، اور مصنف کا قول أن يطاطئ رأسہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنا سر نیچے کی طرف جھکائے اور مائل کرے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں سر جھکا کر تھوکنے کا اس وجہ سے کہاگیا تاکہ یہ سامنے یعنی جانب قبلہ تھوکنا نہ ہوکہ یہ مکروہ ہے۔ (اعانۃ الطالبین علی حل الفاظ فتح المعین، ج 01، ص 224، دار الفكر للطباعة و النشر و التوريع)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0710
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب1447ھ / 20 جنوری 2026 ء