logo logo
AI Search

خراش پر خون چمکے مگر نہ بہے تو کیا وہ ناپاک ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حادثے میں جسم پر خراش آنے پر خون چمکا لیکن بہا نہیں، تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حادثے میں کسی عضو پر رگڑ کے باعث خراش آجاتی ہے تو اس جگہ خون نمودار ہوتا ہے مگر یہ خون کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس عضو کو ہلایا جائے تب بھی گرتا نہیں ہے، اسی جگہ چپکا سا رہتا ہے۔ ایسا خون ناپاک ہے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں خون جو خراش پر ظاہر ہوا مگر بہا نہیں وہ پاک ہے کیونکہ خون جب تک بدن کے اندر ہو اس پر ناپاکی کا حکم نہیں لگتا اگرچہ خراش وغیرہ کے سبب کچھ کھال ہٹ جانے سے نظر آنے لگے جیسے کانٹا یا سوئی کی نوک لگنے سے معمولی سا خون ابھر یا چمک جاتا ہے مگر بہتا نہیں تو وہ پاک ہوتا ہے۔ ہاں اگر بہہ گیا تو اب ناپاک ہے۔

بہار شریعت میں ہے: خون یا پیپ یا زرد پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یا انگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا یا ناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 304، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2367
تاریخ اجراء: 23 صفرالمظفر 1447ھ / 18 اگست2025ء