logo logo
AI Search

نابالغ کے ہاتھ ڈالنے سے پانی کا ٹب ناپاک ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغ بچہ پانی کی بالٹی میں ہاتھ ڈال دے تو اس سے وضو و غسل کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ سردیوں میں نہانے کے لیے ٹب میں گرم پانی ڈالا جاتا ہے۔ بعض اوقات گھر کے چھوٹے بچے اُس ٹب میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں؟ کیا اُن کے ہاتھ ڈالنے کی صورت میں اُس پانی کو ضائع کیا جائے گا یا اُس پانی سے نہایا جا سکتا ہے؟

جواب

اگر نابالغ بچہ کہ کھیلتا کودتا پانی کی بالٹی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے، تو پانی ناپاک ہو گا یا نہیں، اِس کی تین صورتیں ہیں۔

(1) اگر بچے کا ہاتھ کسی نجاست کے سبب نجس نہ ہو، یعنی ہاتھ کا پاک ہونا یقینی ہو، تو بالٹی کا پانی نجس یا مستعمل نہیں ہوگا۔

(2) اگر ہاتھ کا نجاست سے آلودہ ہونا یقینی ہو، تو بالٹی کا پانی نجس ہو جائے گا۔ وہ وضو یا غسل کے قابل نہیں۔

(3) اگر ہاتھ کا نجس یا پاک ہونا، کچھ بھی یقینی نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ پانی قابلِ وضو ہی رہے گا، البتہ دوسرے پانی سے وضو کرنا مستحب ہے، کیونکہ جس پانی میں ہاتھ ڈالا گیا، وہ کم از کم مشکوک ضرور ہو چکا ہے۔

علامہ محمد بن محمود اُسْتَرُوْشَنی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 632ھ / 1234ء) لکھتے ہیں:

الصبي إذا أدخل يده أو رجله فى كوز ماء، فإن علم أن يده طاهرة بيقين جاز التوضؤ بهذا الماء، و إن علم أنها نجسة لايجوز و إن لم يعلم أنها طاهرة أو نجسة يستحب أن يتوضأ بغيره، لأن الصبي لايتحامى عن النجاسة غالباً و إن توضأ به جاز، لأن الطهارة أصل وفي النجاسة شك

ترجمہ: اگر بچہ پانی والے برتن میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈال دے، تو اگر یقینی طور پر یہ معلوم ہو کہ اس کا ہاتھ پاک تھا تو اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے اور اگر اس کا ناپاک ہونا معلوم ہو تو پھر اس سے وضو کرنا، جائز نہیں، لیکن اگر اس کے پاک یا ناپاک ہونے کا علم نہ ہو، تو مستحب یہ ہے کہ کسی دوسرے پانی سے وضو کیا جائے، کیونکہ بچہ عام طور پر نجاست سے پرہیز نہیں کرتا۔ تاہم اگر کوئی اسی پانی سے وضو کر لے تو وضو جائز اور درست ہے، کیونکہ پانی کی اصل طہارت اور پاکیزگی ہے، اُس کے نجس ہونے میں محض شک ہے۔ (احکام الصغار، فی مسائل الطھارات، صفحہ 13، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نابالغ اگرچہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو، جبکہ آثار بلوغ مثلِ احتلام وحیض ہنوز شروع نہ ہوئے ہوں، اُس کا پاک بدن جس پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ ہو، اگرچہ تمام وکمال آب قلیل میں ڈوب جائے، اُسے قابلیت وضو وغسل سے خارج نہ کرے گا، لعدم الحدث۔ اگرچہ بحالِ احتمال نجاست جیسے ناسمجھ بچوں میں ہے، بچنا افضل ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 02، صفحہ 114، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نوٹ: یاد رہے کہ اگر نابالغ بچہ سمجھ دار ہو، یعنی وضو اور نماز کا شعور رکھتا ہو۔ اگر وہ وضو کی نیت سے اپنا ہاتھ بالٹی میں ڈال دے، تو جیسے ہی بالٹی سے ہاتھ باہر نکالے گا، بالٹی کا پانی مستعمل قرار پائے گا، کیونکہ یہاں نیتِ تقرب موجود ہے اور قولِ معتمد کے مطابق نابالغ عاقل کی نیتِ تقرب معتبر ہے۔ علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 956ھ / 1049ء) لکھتےہیں:

فإن توضأ به ناوياً اختلف فيه المتأخرون و المختار أنه يصير مستعملاً إذا كان عاقلاً لأنه نوى قربة معتبرة۔

ترجمہ: اگر بچہ نیت کر کے (دَہ در دَہ سے کم غیر جاری) پانی سے وضو کرے، تو اس میں متاخرین اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ قولِ مختار یہ ہے کہ اگر بچہ عاقل ہو، تو پانی مستعمل ہو جائے گا، کیونکہ اس نے ایک معتبر عبادت کی نیت کی ہے۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی،فصل فی الأنجاس صفحہ 153، مطبوعہ لاھور)

فتاوٰی رضویہ میں ہے: ہاں بنیتِ قربت، سمجھ وال بچہ سے (دَہ در دَہ سے کم غیر جاری پانی میں ہاتھ) واقع ہو تو مستعمل کر دے گا۔

لانہ من اھلھا و قد بینا المسئلۃ فی اَلْطِّرْسُ المُعْدَل فی حَدِّالماءِ المستعمل۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 02، صفحہ 114، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9749
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ / 22 جنوری 2026ء