logo logo
AI Search

شرعی معذور کو ریح خارج ہونے کا شک ہو تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

معذور شرعی کو ریح خارج ہونے کا شک ہو تو اس کی مختلف صورتوں کے احکام

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی خاتون بار بار ریح خارج ہونے کے مرض میں مبتلا ہو، جس کو  شرعی معذور کہتے ہیں اور پھر وہ ایک نماز کے وقت میں وضو کرے اور اس پورے وقت میں ایک بار بھی عذر نہ پایا جائے، نہ یقین کے ساتھ نہ شک کے ساتھ، تو کیا اس نماز کا وقت ختم ہوتے ہی وضو ختم مانا جائے گا یا یہی وضو کافی ہے ؟

 نیز یہ بھی ارشاد فرمادیں کہ اگر کوئی عورت  ریح خارج ہونے کی وجہ سے معذور ہو، اس نے ظہر کا وقت نکلنے کے بعد عصر کے وقت وضو کیا، اور نماز عصر پڑھ لی، اس کے بعد مغرب کی نماز کا وقت ہوا  اور اسے اتنا یاد ہو کہ اس وقتِ عصر میں ایک بار ریح خارج ہوئی تھی مگر اب شک میں مبتلا ہے کہ ریح آگے کی طرف سے خارج ہوئی تھی یا پیچھے کی طرف سے، کیونکہ اس کو بسا اقات (لیکن بہت کم) اگلے مقام سے بھی ریح خارج ہوجاتی ہے، تو اب ایسی عورت کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا وہ شرعاً معذور شمار ہوگی اور اس کو نیا وضو کرنا ہوگا یا اب سے معذور ہونے کا حکم ختم ہوجائے گا ؟

جواب

آپ کے دونوں سوالوں کے جوابات :

(۱) جب کوئی شرعی معذور خاتون نماز کے وقت میں ایک بار وضو کرلے اور اس وقت میں وضو توڑنے والا وہ عذر ایک بار بھی نہ پایا جائے  جس کی وجہ سے وہ معذور بنی تھی اور نہ ہی وضو ٹوٹنے کا کوئی اور سبب پایا جائے تو ایسی صورت میں نماز کا وقت ختم ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا اور اس کے علاوہ اب وہ شرعی معذور بھی نہیں رہے گی۔

(۲) اگر کوئی خاتون نماز عصر سے قبل شرعی معذور بن چکی تھی، اس کے بعد اس نے عصر کے وقت میں نیا وضو کیا  تھا، اور اس وقت میں  عذر یعنی ریح کا خروج کم از کم ایک بار پایا بھی گیا  تو وہ شرعی اعتبار سے معذور ہی ہے، اور یہ شک کہ وہ ریح آگے والے مقام سے خارج ہوئی تھی یا پیچھے والے سے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا نماز عصر کا وقت ختم ہونے کے بعد اس کو مغرب کیلئے نیا وضو کرنا ہوگا۔

شرعی معذور کے متعلق، بہارشریعت میں ہے: ” ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا۔۔۔ جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا۔۔ اور جب پورا وقت گزر گیا اور خون نہیں آیاتو اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا۔ “ (بہارشریعت جلد 1، حصہ2، صفحہ 385، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

معذور شرعی کے وضو کرنے  کے بعد وقت میں عذر والا سبب نہ پایا گیا اور نہ ہی کوئی دوسرا ناقض وضو پایا گیا تو اب وقت کے نکلنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں وہ اب معذور شرعی نہیں رہے گا۔فتح القدیر میں ہے:

”(وإذا خرج الوقت بطل وضوءهم) هذا إذا توضؤوا على السيلان أو وجد السيلان بعد الوضوء، أما إن كان على الانقطاع ودام إلى خروج الوقت فلا يبطل بالخروج ما لم يحدث حدثا آخر أو يسل دمها، فقولنا خروج الوقت ناقض أو الدخول مجاز عقلی في الإسناد“

ترجمہ: اور جب (نماز کا) وقت نکل جائے تو ان (معذورین) کا وضو باطل ہو جاتا ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب انہوں نے خون بہنے کی حالت میں وضو کیا ہو، یا وضو کے بعد خون کا بہنا پایا گیا ہو۔ تو اگر وضو خون منقطع ہونے کی حالت پر کیا ہو اور وہ انقطاع وقت کے نکلنے تک اسی طرح برقرار رہے، تو محض وقت کے نکلنے سے وضو باطل نہیں ہوگا، جب تک کوئی دوسرا حدث پیش نہ آئے یا اس کا خون دوبارہ بہنے نہ لگے۔ لہٰذا ہمارا یہ کہنا کہ وقت کا نکلنا ناقضِ وضو ہے یا وقت میں داخل ہونا ناقض ہے، اسناد کے اعتبار سے مجازِ عقلی ہے۔ (فتح القدیر شرح الھدایۃ، ج 01، ص 180، دار الفکر، بیروت)

بنایہ میں ہے:

”وإنما الانتقاض بالحدث السابق لكن أثره يظهر عندخروج الوقت، لأن الوقت مانع، فإذا زال أثره ظهر والشرط يقام مقام العلة في حق إضافة الحكم“

ترجمہ: اور معذور کا وضو جو ٹوٹتا ہے، وہ صرف پہلے والے حدث کی وجہ سے ٹوٹتا ہے، لیکن اس حدث کا اثر وقت نکلنے سے ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ وقت مانع ہے، تو جب وقت ختم ہوا، تو حدث کا اثر بھی ظاہر ہوگیا اور حکم کی نسبت کرنے میں شرط کو علت کی جگہ رکھا گیا۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، ج 1، ص 570، مطبوعہ ملتان)

دوسرے مسئلے کے جزئیات:

فقہ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ جب کسی شخص کو با وضو و با طہارت ہونے کا یقین ہو، تو  وضو ٹوٹ جانے کے شک کی وجہ سے اس کا یہ یقین زائل نہیں ہوگا اور وہ با وضو ہی کہلائے گا۔ علامہ ہبۃ اللہ البعلی علیہ الرحمۃ التحقیق الباھر میں لکھتے ہیں:

”(القاعدۃ الثالثۃ )من القواعد الکلیۃ (الیقین لا یزول بالشک) ان الطارئ علی الیقین لا یرفعہ۔ثم ان ھذہ القاعدۃ لھا مدخل فی جمیع أبواب الفقہ“

ترجمہ: فقہ کے قواعد کلیہ میں سے تیسرا قاعدہ ہے: یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، یعنی جو چیز یقین کی حالت میں ثابت ہو، اس پر طاری ہونے والا شک اسے ختم نہیں کرتا۔پھر اس قاعدے کا فقہ کے تمام ابواب میں دخل ہے۔ (التحقیق الباھر شرح الاشباہ و النظائر، ج01 ، ص 625، دار اللباب)

شرح الحموی علی الاشباہ میں ہے:

”(يتدرج في هذه القاعدة قواعد، منها قولهم: الأصل بقاء ما كان على ما كان) لأن الأصل في الأشياء البقاء، والعدم طارئ( وتتفرع عليها مسائل منها: من تيقن الطهارة وشك في الحدث) يعني الحقيقي، أو الحكمي فيشمل ما لو شك هل نام، أو هل نام متكئا، أو لا؟، أو زالت إحدى أليتيه، أو شك هل كان قبل اليقظة، أو بعدها( فهو متطهر، ومن تيقن الحدث وشك في الطهارة فهو محدث، كما في السراجية وغيرها“

ترجمہ: اس قاعدے کے تحت کئی ذیلی قواعد آتے ہیں، جن میں فقہاء کا یہ قول بھی شامل ہے: اصل یہ ہے کہ جو چیز جس حالت پر تھی، وہ اسی حالت پر باقی رہے؛ کیونکہ اشیاء میں اصل بقا ہے، اور عدم ایک عارضی چیز ہوتی ہے۔اور اسی قاعدے سے کئی مسائل نکلتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: جو شخص اپنی طہارت کا یقین رکھتا ہو اور حدث میں شک کرے، یعنی حقیقی حدث میں، یا حکمی حدث میں، جس میں یہ صورتیں بھی شامل ہیں کہ اسے شک ہو کہ آیا وہ سویا تھا یا نہیں، یا ٹیک لگا کر سویا تھا یا نہیں، یا اس کی ایک یا دونوں سرین زمین سے ہٹ گئی تھیں یا نہیں، یا اسے شک ہو کہ یہ حالت بیداری سے پہلے تھی یا بعد میں، تو وہ شخص باوضوشمار ہوگا۔اور جس شخص کو حدث کا یقین ہو اور طہارت میں شک ہو، تو وہ محدث شمار ہوگا، جیسا کہ سراجیہ اور دیگر کتب میں مذکور ہے۔ (غمز عیون البصائر شرح الاشباہ و النظائر، ج 01، ص 98، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس اعتبارسے ہونا یہ چاہئے تھا کہ جب  صورتِ مستفسرہ میں  اس شرعی معذور خاتون کو  یہ یقین نہیں کہ ریح پیچھے سے خارج ہوئی تھی یا آگے سے، تو اس کا وضو باقی رہتا، کیونکہ ریح  پچھلے مقام سے خارج ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور آگے سے ہو تو نہیں ٹوٹتا، جبکہ اس خاتون کو دونوں میں شک ہے، لہٰذا وضو کا ٹوٹنا یقینی نہیں جبکہ پہلے والا وضو یقینی ہے، لہذا وہ باقی رہتا  اور جب وضو باقی کہلایا تو  ایک بار بھی عذر نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کا معذور شرعی ہونا ختم ہو جاتا  اور اسی وضو سے اگلی نماز پڑھنا اس کیلئے جائز ہوتا، چنانچہ اگلے مقام سے خارج ہونے والی ریح کے متعلق بحر میں ہے:

”الريح الخارجة من الذكر وفرج المرأة، فإنها لا تنقض الوضوء على الصحيح“

ترجمہ: مرد کے ذکر (عضوِ تناسل) اور عورت کی شرمگاہ سے جو ہوا خارج ہوتی ہے، وہ صحیح قول کے مطابق وضو کو نہیں توڑتی۔ (البحر الرائق، ج 01، ص 31، دار الکتاب الاسلامی)

لیکن ریح کا پچھلے مقام سے خارج ہونا ہی غالب ہے، اور اس کے مقابلے میں اگلے مقام سے خارج ہونا، نادر بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اور فقہ میں نادر کالمعدوم و ساقط الاعتبار ہے، لہٰذا یوں وضو ٹوٹنے کا غالب گمان حاصل ہو جائے گا جس کی وجہ سے سابقہ طہارت کا یقین زائل ہو جائے گا اور ایک بار ناقض وضو پائے جانے کی وجہ سے عذر شرعی بھی باقی رہے گا اور وقت نکلنے کے بعد اس کو نیا وضو کرنا ہوگا۔

علامہ ابن نجیم مصری حنفی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

”ما ثبت بيقين لا يرتفع إلا بيقين والمراد به غالب الظن“

ترجمہ: ایک یقین دوسرے یقین سے زائل ہوجاتا ہے اور یہاں یقین ثانی سے مراد غالب گمان ہے۔ (الاشباہ و النظائر، ص 51، دار الکتب العلمیۃ )

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

”وغالب الظن عندهم ملحق باليقين وهو الذي يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم وفي الأبواب صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق“

ترجمہ: فقہاء کے نزدیک غالب گمان کو یقین کے ساتھ ملحق کیا جاتا ہے، اور احکامِ شرعیہ اسی پر قائم کیے جاتے ہیں۔ اس بات کو ان کے کلام کے مطالعے سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے وضو کے نواقض میں صراحت کی ہے کہ غالب گمان یقینی امر کے مانند ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 675، دار الکتب العلمیۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0711
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب 1447ھ/20 جنوری 2026