چھوٹی پانی کی ٹینکی میں چھپکلی مر جائے تو پانی کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چھوٹی ٹینکی میں چھپکلی مرجائے تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چھپکلی پانی کی دہ درد ہ سے چھوٹی ٹینکی میں مرجائے تو اُس ٹینکی کے پانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
چھپکلی کا شمار دموی یعنی خون والے جانوروں میں ہوتاہےاور دموی جانور تھوڑےپانی میں گر کر مرجائے تو پانی ناپاک ہوجاتاہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اُس چھوٹی ٹینکی کا سارا پانی ناپاک ہوجائےگا ۔
چھپکلی دموی جانوروں میں سے ہے۔ چنانچہ محیط البرہانی، ردالمحتار وغیرہ میں ہے:
”والنظم للآخر“ ( و سواکن البیوت) ای مما لہ دم سائل کالفأرۃ والحیۃ والوزغۃ“
یعنی گھروں میں رہنے والے وہ جانورجن میں بہنے والاخون ہوتاہے جیساکہ چوہا،سانپ ،اور چھپکلی۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ ، ج 01، ص 426، مطبوعہ کوئٹہ)
دمو ی جانور تھوڑے پانی میں گرکرمرجائیں تو پانی ناپاک ہوجاتاہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:
”ثم الحیوان اذا مات فی المائع القلیل فلا یخلو اما ان کان لہ دم سائل او لم یکن ولا یخلو اما ان یکون بریا او مائیا ولا یخلو اما ان مات فی الماء او فی غیر الماء ، ۔۔۔۔ان کان لہ دم سائل فان کان بریا ینجس بالموت ویجنس المائع الذی یموت فیہ سواء کان ماء اوغیرہ “
ترجمہ: ” کوئی جانور تھوڑے مائع(یعنی بہنے والی چیز مثلاپانی ، تیل ،دودھ وغیرہ) میں گر کر مر جائے تو وہ جانور بہتے خون والا ہو گا یا نہیں۔وہ جانور خشکی والا ہوگایاپانی والا ،وہ پانی میں گر کر مرے گایا پانی سے باہر مرے گا۔ پانی کے اندر یا باہر مرا ۔۔۔۔اگروہ جانور بہتے خون والا ہو اور خشکی کاہوتو وہ پانی کو ناپاک کردےگا اور اس چیزکو بھی ناپاک کردےگا جس میں گر کر مرا ہے خواہ وہ پانی میں گر کر مرے یا پانی کےباہر مرے اور پھر پانی میں گر جائے ۔“ (بدائع الصنائع، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 79، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ملتقطاً)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :
”وما عداھما یفسد الماء القلیل “
یعنی وہ جانورکہ جن میں بہنے والاخون نہیں ہوتااور پانی میں رہنےوالے جانور، ان دونوں کےعلاوہ کوئی جانور تھوڑے پانی میں گرکر مرجائےگا تو اُس پانی کو ناپاک کردےگا۔(الاختیار لتعلیل المختار، ج 01، ص 15، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:” ہاں اگر (چھپکلی) مرجائے تو سرکہ ناپاک ہوگیا۔“(فتاوٰی رضویہ، ج04،ص383، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13874
تاریخ اجراء:04محرم الحرام 1447ھ / 30 جون 2025ء