ایک سے زیادہ احتلام ہوجائے تو غسل کتنی مرتبہ کرنا ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک سے زائد بار احتلام کی صورت میں کتنی مرتبہ غسل کرنا ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر رات میں ایک سے زائد بار احتلام ہو جائے، تو کتنی مرتبہ غسل کرنا ہوگا؟
جواب
اگر دو یا دو سے زائد بار احتلام ہوا، لیکن ان کے درمیان غسل نہیں کیا تھا، تو اب ایک ہی غسل سب کے لیے کافی ہوگا، ہاں! اگر ایک یا دو احتلام کے بعد غسل کرلیا تھا، پھر اس کے بعد مزید احتلام ہوا، تو اب دوبارہ غسل کرنا ہوگا۔ صحیح مسلم میں ہے
عن أنس: أن النبي صلى اللہ عليه و سلم كان يطوف على نسائه بغسل واحد
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ایک غسل سے اپنی ساری ازواج پر دورہ فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 309، ج 1، ص 249، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ: کئی بار ہمبستری کی ہو تو غسل کرتے وقت چند غسل کرے یا ایک ہی غسل کافی ہے ایک ہی نیت سے؟
اس پر آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: چند بار ہمبستری کی ہوجب بھی ایک ہی غسل واجب ہے ایک ہی غسل کریں، صحیح مسلم شریف میں ا م المومنین عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ فرماتی ہیں:
کان رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم یطوف علی نسائہ بغسل واحد
یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تمام ازواج سے ہم بستری کے بعد ایک ہی غسل فرماتے تھے۔ اور نیت بھی متعدد کرنے کی حاجت نہیں کہ سبب واحد ہے پھر تعدد نیت بے معنیٰ۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 12، 13، مکتبہ رضویہ، کراچی)
مشہور قاعدہ ہے
إذا اجتمع أمران من جنس واحد، و لم يختلف مقصودهما دخل أحدهما في الآخر غالبا. فمن فروعها: إذا اجتمع حدث وجنابة، أو جنابة وحيض كفى الغسل الواحد
ترجمہ: جب ایک ہی جنس کے دو امور جمع ہوجائیں اور ان دونوں کا مقصود (اصل مقصد) مختلف نہ ہو تو عموماً ایک دوسرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی قاعدے کی فروع میں سے یہ ہے کہ جب حدث اور جنابت جمع ہوجائیں، یا جنابت اور حیض جمع ہوجائیں تو ایک ہی غسل کافی ہوگا۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 132، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
جب دو مختلف اسباب پائے جانے پر ایک ہی غسل دونوں کی طرف سے کفایت کرتا ہے، تو جب ایک ہی سبب بار بار پایا جائے، تو اب ایک ہی غسل بدرجہ اولی کفایت کرے گا، اور احتلام ایک ہی سبب ہے، تو اس کے بار بار پائے جانے کے بعد ایک ہی غسل بدرجہ اولی کفایت کرے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4823
تاریخ اجراء: 19رمضان المبارک1447ھ / 09مارچ2026ء