logo logo
AI Search

پیشاب کے بعد قطرے نکلیں تو کیا غسل واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیشاب کے بعد منی کے قطرے نکلنے سے غسل کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ پیشاب کے بعد منی کے کچھ قطرے نکل آئے تو کیا غسل واجب ہوجائے گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب پیشاب کے بعد منی کے قطرے بغیر شہوت کے نکلیں تو ان سے غسل واجب نہیں ہوتا؛ کیونکہ غسل واجب ہونے کا سبب منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوکر عضو خاص سے نکلنا ہے، جبکہ پیشاب کے بعد جو عموماً قطرات آتے ہیں وہ ودی کے ہوتے ہیں جو کہ بغیر شہوت کے نکلتی ہے اور یہ غسل کو واجب نہیں کرتی۔

علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ / 1175ء) لکھتے ہیں:

رجل بال فخرج من ذكره مني أنه إن كان منتشرا فعليه الغسل؛ لأن في ذلك دلالة خروجه عن شهوة و إن كان منكسرا عليه الوضوء

ترجمہ: ایک آدمی نے پیشاب کیا پھر اس کے عضو سے منی نکل آئی، اگر اس کا عضو منتشر حالت میں تھا تو اس پر غسل لازم ہے؛ کیونکہ عضو کے منتشر (سخت) ہونے میں منی کے شہوت کے ساتھ خارج ہونے کی دلیل ہے، اور اگر وہ منکسر حالت میں تھا تو اس پر (صرف) وضو لازم ہے۔ (المحیط الرضوی، کتاب الطهارة، باب الجنابة و الغسل، جلد 1، صفحہ 101، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام فخر الاسلام حسن بن منصور قاضی خان فرغانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 592ھ / 1196ء) لکھتے ہیں:

و خروج المني لا عن شهوة بأن سقط من مكان مرتفع أو ما أشبه ذلك لا يوجب الغسل و ينقض الوضوء

ترجمہ: اور منی کا بغیر شہوت کے نکلنا، بایں طور کہ کوئی اونچی جگہ سے گر پڑے یا اس جیسی کوئی صورت ہو، تو یہ غسل واجب نہیں کرتا، البتہ وضو توڑ دیتا ہے۔ (الفتاوی الخانیة، کتاب الطهارة، جلد 1، صفحہ 41، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوکر عضو سے نکلنا سبب فرضیت غسل ہے۔… اگر منی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلا شہوت نکل آئیں تو غسل واجب نہیں البتہ وضو ٹوٹ جائے گا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 321، مکتبة المدینہ، کراچی)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: غسل واجب ہونے کے لیے شرط ہے کہ منی دفق کے ساتھ خارج ہو، یعنی نکلتے وقت کود کر نکلے یعنی اپنی جگہ سے اس طرح خارج ہو... پیشاب کے قبل یا بعد جو نکلتی ہے وہ ودی ہوتی ہے، مذی اور ودی میں غسل نہیں۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 52، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1137
تاریخ اجراء: 11 شوال المكرم 1447ھ / 31 مارچ 2026ء