logo logo
AI Search

ہاتھ پر سبزی کی لیس لگی ہو تو وضو و غسل ہو جائیگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سبزی کی لیس ہاتھ پر لگی ہو، تو وضو و غسل کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک بارمیں نے، ٹینڈے کی سبزی کاٹی، اور اس کی جو لیس دار جلد ہوتی ہے، وہ ہاتھوں پر لگ گئی، لیکن میرا دھیان نہیں رہا، اور غسل کر لیا، بعد میں دیکھا، تو وہ محسوس ہو رہی تھی، تو کیا میرا غسل ہو گیا، یا نہیں ؟ اور جو میں نے کپڑے پہنے، کیا وہ بھی ناپاک ہو گئے ہیں ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں آپ کا غسل درست ہو گیا؛ کیونکہ ٹینڈے وغیرہ سبزیوں میں بعض اوقات جو ہلکی لیس یا چپچپاہٹ ہوتی ہے، ہاتھ وغیرہ پر لگے ہونے کی صورت میں جسم پر پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتی، یعنی وہ لگے رہنے کی صورت میں، جسم وغیرہ تک پانی پہنچ جاتا ہے، لہذا آپ کا غسل درست ادا ہو گیا۔ نیز سبزیوں کی لیس یا چپچپاہٹ ناپاک بھی نہیں ہوتی، لہذا نہانے کے بعد اگر وہ ہاتھ وغیرہ سے چھوٹ کر کپڑے وغیرہ پر لگ جائے، تو کپڑے بھی ناپاک نہیں ہوں گے، جبکہ اس کے علاوہ کوئی اورنجاست نہ لگی ہو۔

 در مختار، امداد الفتاح و مراقی الفلاح میں ہے (واللفظ للآخر) "بقاء دسومۃ الزیت ونحوہ لا یمنع لعدم الحائل" ترجمہ: تیل کی چکناہٹ، اور اس کی مثل دیگر اشیاء کا باقی رہنا، پانی کے جسم تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہونے کی وجہ سے وضو سے مانع نہیں۔ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الطھارۃ، صفحہ 48، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4974
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء