logo logo
AI Search

پبلک واشنگ مشین میں کپڑے دھونا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پبلک کے لئے لگی واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

باہر کے ملکوں میں پبلک کے لئے کپڑے دھونے کے لیے مشین لگی ہوتی ہے، اس میں کپڑے دھونے سے کپڑے ناپاک تو نہیں ہوں گے۔

جواب

یہ بات یاد رہے کہ! اشیاء میں اصل طہارت یعنی پاک ہونا ہے، محض شک و گمان سے نجاست کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ لہذا جب تک مشین پر نجاست وغیرہ لگنے کا کامل یقین نہ ہوجائے، اس وقت تک مشین پاک ہی سمجھی جائے گی اور اسے دھوئے بغیراس میں کپڑے دھوسکتے ہیں، البتہ! بالفرض اس پر کوئی ناپاکی لگنا یقینی معلوم بھی ہوجائے، تو اس نجاست کو شرعی طریقے کے مطابق زائل کرکے، اس میں کپڑے دھوسکتے ہیں۔

الاشباہ و النظائر میں ہے ’’شک فی وجود النجس فالاصل بقاء الطھارۃ‘‘ ترجمہ: نجاست کے پائے جانے میں شک ہو، تو اصل طہارت کا باقی رہنا ہے۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 61، مطبوعہ کراچی)

در مختار میں ہے: ’’و لو شک فی نجاسۃ ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم یعتبر‘‘ ترجمہ: اگر پانی یا کپڑےکے نجس ہونے میں یا طلاق یا آزادی کا شک ہوا، تو یہ معتبر نہیں۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 310، مطبوعہ کوئٹہ)

امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: شریعتِ مطہرہ میں طہارت و حلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک و ظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ طہارت و حلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور، نرا ظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے، جس پر ہزارہا احکام متفرع۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4935
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 22 اپریل 2026ء