اعضائے غسل پانی میں چلے جائیں تو پانی مستعمل ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا بے وضو کے اعضائے غسل پانی میں ڈالنے سے پانی مستعمل ہو گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز كے احكام میں لکھا ہے کہ: "بے وضو شخص بے دھلے اعضائے وضو مثلا ہاتھ وغیرہ اگر پانی میں ڈالے تو پانی مستعمل ہو جائے گا ۔" اب سوال یہ ہے کہ اگر بے وضو شخص اعضائے غسل پانی میں ڈال دے، تو کیا اس سے پانی مستعمل ہو گا، یا نہیں ؟
جواب
اگر بے وضو شخص اعضائے غسل پانی میں ڈال دے، تواس صورت میں پانی مستعمل نہیں ہو گا؛ کیونکہ پانی کے مستعمل ہونے کے لیے ضروری ہے، کہ وہ کسی حدث کو زائل کرے، یا ثواب کی نیت سے استعمال کیا جائے، جبکہ یہاں یہ دونوں صورتیں نہیں پائی جاتیں۔
مستعمل پانی کی تعریف تنویر الابصار مع الدرالمختار میں یوں مذکورہے "ماء (استعمل ل) اجل (قربۃ) ۔۔۔(أو) لاجل (رفع حدث)" یعنی مستعمل پانی سے مراد وہ پانی ہے جسے نیکی یا حدث دور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج 01، ص 286، 285، ملتقطاً، مطبوعہ: کوئٹہ)
چنانچہ مستعمل پانی کی تعریف بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”مستعمل وہ قلیل پانی ہے جس نے یا تو تطہیر نجاست حکمیہ سے کسی واجب کو ساقط کیا یعنی انسان کے کسی ایسے پارہ جسم کو مس کیا جس کی تطہیر وضو یا غسل سے بالفعل لازم تھی یا ظاہر بدن پر اُس کا استعمال خود کار ثواب تھا اور استعمال کرنے والے نے اپنے بدن پر اُسی امر ثواب کی نیت سے استعمال کیا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 43، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
ایک اور مقام پر امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "جسے حاجتِ غسل نہیں اُس نے اعضائے وضو کے سوا مثلاً پیٹھ یا ران دھوئی۔۔۔۔۔۔مستعمل نہ ہوگا کہ حدث وقربت نہیں۔ " (فتاوی رضویہ، جلد 2،صفحہ 46، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5013
تاریخ اجراء: 23 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 11 مئی 2026ء