لال بیگ کے خون سے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کاکروچ کا خون اگر کپڑوں پر لگ جائے، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کاکروچ کا خون پاک ہے یا ناپاک ،اگرکپڑوں پر لگ جائے، تو کیا کریں؟
جواب
کاکروچ میں بہتا خون نہیں ہوتا ، اس کا خون پاک ہے ،اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے البتہ گھن والی چیز ضرور ہے اور نظافت و صفائی کا خیال رکھنا اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے،لہٰذا اس کے پیشِ نظر کپڑوں کو دھو کر صاف کر لینا چاہئے۔
جن جانوروں میں بہتاخون نہیں ہوتا، ان کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری، بدائع الصنائع وغیرہ میں مذکور ہے: ”والنظم للاول“ موت ما ليس له نفس سائلة في الماء لا ينجسه كالبق والذباب والزنابير والعقارب ونحوها“ یعنی پانی اس جاندار کی موت سے نجس نہیں ہوتا جس میں بہتا خون نہ ہو، جیسے کھٹمل، مکھی، بھڑ اور بچھو وغیرہ۔“(فتاوٰی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 24،مطبوعہ پشاور)
فتاوٰی شامی میں ہے: ”(ودم سمك وقمل وبرغوث وبق) أي: وإن كثر بحر ومنية۔۔۔۔وشمل ما كان في البدن والثوب تعمد إصابته أو لا۔ اهـ۔ حلية، وعليه فلو قتل القمل في ثوبه يعفى عنه، وتمامه في الحلية “ یعنی مچھلی، جوں، پسو اور کھٹمل کا خون پاک ہے یعنی اگرچہ یہ کثیر ہو۔ "بحر "اور "منیہ" میں یہ مذکور ہے۔۔۔۔یہ اسے بھی شامل ہے جو بدن اور کپڑے پر موجود ہو خواہ قصداً پہنچایا گیا ہو یابلا قصد الخ "حلیہ"، اسی بنا پر اگر کسی نے جوں کو اپنے کپڑے پر مارا تو وہ خون معاف ہے، یہ تمام بحث "حلیہ" میں مذکور ہے۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الطھارۃ، ج01،ص 576،مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2549
تاریخ اجرا: 21ربیع الآخر1447ھ/15 اکتوبر2025ء